آتشزنی کا نشانہ بننے والے فلسطینی خاندان کے سربراہ بھی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلسطینی حکام نے اس حملے کے لیے اسرائیلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا

مقبوضہ غرب اردن میں آتشزنی کا نشانہ بننے والے خاندان کے سربراہ سعد الدوابشہ بھی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔

یہ حملہ 31 جولائی کو نابلس کے قریب دومہ نامی گاؤں میں کیا گیا تھا جس میں سعد کے مکان کو رات گئے آگ لگائی گئی تھی۔

اس آگ میں ان کا ڈیڑھ سالہ بچہ علی سعد جل کر ہلاک ہو گیا تھا جبکہ وہ خود، ان کی اہلیہ اور ایک بیٹا شدید زخمی ہوئے تھے۔

سعد نے اسرائیل کے ایک ہسپتال میں سنیچر کو دم توڑا۔ اس واقعے میں وہ بری طرح جل گئے تھے جبکہ ان کی اہلیہ اور دوسرے بیٹے کی حالت بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔

32 سالہ سعد کو دومہ میں ہی سپردِ خاک کیا گیا ہے اور ان کی نمازِ جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

ان کے مکان پر حملے کا الزام یہودی آبادکاروں پر عائد کیا گیا ہے جنھوں نے بظاہر گھر کے قریب عبرانی زبان میں ’انتقام‘ کا لفظ بھی تحریر کیا تھا۔

اس واقعے کی فلسطینی حکام کے علاوہ عالمی سطح پر بھی مذمت کی گئی تھی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینی بچے کے قاتلوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مکان پر حملے کا الزام یہودی آبادکاروں پر عائد کیا گیا ہے جنھوں نے بظاہر گھر کے قریب عبرانی زبان میں ’انتقام‘ کا لفظ بھی تحریر کیا تھا

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے اس حملے کو دہشت گردی کی واردات قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی میں کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔

اس سلسلے میں پہلی بار اسرائیلی حکام نے ایک مشتبہ یہودی کو بغیر کسی مقدمے کے جیل میں ڈالنے کا غیر معمولی قدمبھی اٹھایا ہے۔

غرب اردن میں آباد یہودی موڈیچائے میئر کو چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں لیا گيا ہے اور ان پر سعد کے مکان کو آگ لگانے کا الزام ہے۔

اس سے قبل اسرائیل انتظامی حراست کا استعمال فلسطینیوں کے خلاف کرتا رہا تھا لیکن اس نے یہودیوں کے خلاف اس قانون کا استعمال نہیں کیا تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے تعمیر کی گئی تقریباً 100 بستیوں میں پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں جو سنہ 1967 میں غرب اردن اور مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد وہاں آباد ہوئے ہیں۔

ان بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی کہا جاتا ہے لیکن اسرائیل اسے غیر قانونی نہیں سمجھتا۔

اسی بارے میں