امریکی عدالت نے ’سوویت طالبان‘ کو مجرم قرار دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی حکام کے مطابق حمیدالین ایک روسی فوجی ہیں جو افغانستان میں سویت روس کی جنگ کے بعد وہیں رہ گئے تھے

امریکی ریاست ورجینیا میں وفاقی عدالت نے سوویت روس کے ایک سابق فوجی کمانڈر کو سنہ 2009 میں امریکی افواج پر طالبان کے حملے کی قیادت کا مرتکب قرار دیا ہے۔

ایرک حمیدالین جو کہ ایک نو مسلم ہیں انھیں 15 جرائم کا مرتکب پایاگيا ہے جن میں دہشت گردوں سے تعاون، امریکی فوجی طیارہ تباہ کرنے کی کوشش اور وسیع تباہی کے ایک ہتھیار کے استعمال کی سازش بھی شامل ہے۔

پچپن سالہ ایرک حمیدالین افغانستان سے پہلے جنگی قیدی ہیں جن کا مقدمہ امریکی وفاقی عدالت میں چلایا گیا۔

حمیدالین کو جن الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے ان کی کم از کم سزا پندرہ برس ہے۔ حمید الین کی سزا کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

طالبان کے اس حملے میں تقریباً 30 مزاحمت کار مارے گئے ہیں اور حمیدالین واحد حملہ آور تھے جو بچ گئے تھے۔ اس حملے میں کوئی بھی امریکی یا افغان فوجی ہلاک نہیں ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق ان میں سے بعض الزمات کی سزا یقینی طور پر عمر قید ہے۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق حمیدالین کو جب 15 جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تو ان کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔

یہ فیصلہ آٹھ گھنٹے کے غور و خوض اور پانچ دنوں تک شواہد پیش کیے جانے کے بعد دیا گيا ہے۔

وکلا کا کہنا ہے کہ افغانستان کے میدانِ جنگ میں پکڑے جانے والے کسی شخص پر وفاقی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے امریکہ بھیجنا غیر معمولی بات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وکیل استغاثہ نے دلیل دیتے ہوئے یہ کہا کہ وفاقی قانون امریکی فوجیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے چاہے وہ کہیں بھی ہو

وکیل دفاع نے کہا کہ حمیدالین جنگی قیدی ہیں اور ان پر کسی شہری عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ لیکن انھیں اس معاملے پر ناکامی کا سامنا رہا۔

وکیل دفاع پال گل نے جمعے کو اپنے اختتامیہ بیان میں کہا: ’یہ جنگ ہے۔۔۔ اس کے بارے میں سب باتیں کرتے ہیں اور یہی سب نے سن رکھا ہے۔ اس طرح کے تنازعات اس عدالت میں نہ آتے ہیں نہ آنے چاہیے‘۔

وکیل استغاثہ نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی قانون امریکی فوجیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے چاہے وہ کہیں بھی ہو۔

نائب امریکی اٹارنی مائیکل گل نے کہا کہ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ مجرم نے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

55 سالہ حمیدالین نے عدالت میں گواہی نہیں دی لیکن خفیہ طور پر ریکارڈ کیے جانے والے ایک انٹرویو میں انھوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی بات کہی لیکن گولی چلانے سے انکار کیا۔

انھوں نے تفتیس کرنے والوں کو بتایا کہ وہ ’خدا کا کام کر رہے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اوباما انتظامیہ اس معاملے کو دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے

خیال رہے کہ جج نے ان کے خلاف ’دہشت گرد لفظ کے استعمال اور بحث کے دوران اسامہ بن لادن کے ذکر سے منع کر دیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق حمیدالین ایک روسی فوجی ہیں جو افغانستان میں سویت روس کی جنگ کے بعد وہیں رہ گئے تھے اور طالبان کے اتحادی حقانی نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

مبینہ طور پر ان پر خوست صوبے میں افغانستان کی سرحدی پولیس پر سنہ 2009 میں تین حملوں کی سربراہی کا الزام ہے۔ انھیں ان حملوں کا ’ماسٹر مائنڈ ‘ کہا گيا ہے۔

پال گل نے کہا کہ حمیدالین نے صرف افغان پولیس کو نشانہ بنایاتھا نہ کہ امریکی ہیلی کاپٹر کو اور اس بات پر بہت شکوک ہیں کہ انھوں نے بعد میں جنگ میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے والے فوجیوں پر اے کے 47 سے گولیاں چلائی تھیں۔

بہر حال بعض امریکی فوجیوں نے کہا کہ انھوں نے حمیدالین کو گولی چلاتے دیکھا جبکہ بعض نے اس کے برعکس کہا۔

اسی بارے میں