عراقی وزیراعظم کا بدعنوانی کے خلاف اقدامات کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مجوزہ اصلات کے منصوبے کے مطابق بڑی تعداد میں عہدوں پر غیر سیاسی لوگوں کی تعیناتی بھی شامل ہے

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے اصلاحات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حیدر العبادی کا یہ فیصلہ حالیہ دنوں ملک بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔

عراقی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ سیاسی تقرریاں فرقہ وارانہ یا پارٹی کوٹہ کی بنیاد پر نہیں کیا جانی چاہیے اور اس کے ساتھ انھوں نے نائب صدر اور نائب وزیرِاعظم کے عہدے بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم ان کی جانب سے اعلان کردہ اصلاحات پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد ہی قانون کی شکل اختیار کریں گی۔

خیال رہے رواں سال ملک میں شدید گرمی کے دوران بجلی کی قلت کے باعث ملک بھر میں وزیرِاعظم حیدر العبادی کی حکومت کے خلاف عوام نے مظاہرے کیے تھے۔

جعمے کو عراق کے بااثر شیعہ عالم آیت اللہ علی سیستانی نے بھی ملک کے وزیرِ اعظم پر زور دیا تھا کہ بدعنوانی سے سختی سے نمٹا جائے اور تقرریاں سیاسی وابستگی اور فرقہ وارانہ بنیادوں کے بجائے میرٹ پر کی جائیں۔

عراق میں حکومتی عہدے مختلف فرقوں میں تقسیم کرنے کے نظام کے بارے میں کافی عرصہ سے تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ نااہل لوگوں کی تعیناتی سبب بنتا ہے۔

ملک کے تین نائب صدر ہیں جن میں سے دو شیعہ اور ایک سنّی ہیں اور اسی طرح ملک کے تین نائب وزیرِاعظم ہیں، ایک شیعہ ایک سنی اور ایک کرد۔

حیدر العبادی کی جانب سے پیش کی جانے والی مجوزہ اصلات کے منصوبے میں بدعنوانی کے خاتمے کے مقصد کے تحت بڑی تعداد میں عہدوں پر غیر سیاسی لوگوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

منصوبے کے تحت سرکاری اہکاروں کے نجی محافظوں کی تعداد میں کمی کی جائے گی جبکہ قومی سکیورٹی کے اداروں کے بجٹ میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار احمد مہر کا کہنا ہے کہ اگرچہ وزیرِ اعظم کی کابینہ نے مجوزہ اصلاحات کی منظوری دے دی ہے لیکن وزیراعظم کو انھیں پارلیمنٹ سے منظور کر انے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ان تجاویز کی منظوری میں ناکامی سے عوام میں وزیرِاعظم حیدر العبادی کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور اگر اصلاحات کی منظوری مل بھی جاتی ہے تو ان پر عمل درآمد میں وقت لگے گا۔

اسی بارے میں