غرب اردن سے مشتبہ یہودی انتہا پسندوں کی گرفتاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption علی سعد کے والد اور گھر کے سربراہ سعد الدوابشہ نے اسرائیل کے ایک ہسپتال میں سنیچر کو دم توڑا

اسرائیلی پولیس کے مطابق غرب اردن میں آتشزنی کے واقعے سے تعلق کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

غرب اردن میں دو غیر قانونی یہودی آبادیوں میں چھاپوں کے دوران یہ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

اس کے علاوہ اتوار کو اسرائیل نے بغیر مقدمہ چلائے مزید دو مبینہ یہودی شدت پسندوں کو ایک متنازع قانون کے تحت قید کر دیا ہے۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ مئیر ایتنگر اور ایویٹر سلونم جنھیں حالیہ دنوں میں گرفتار کیا گیا تھا، کو چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے جبکہ اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

اس سے قبل اسرائیل انتظامی حراست کا استعمال فلسطینیوں کے خلاف کرتا رہا تھا لیکن اس نے یہودیوں کے خلاف اس قانون کا استعمال نہیں کیا تھا۔

یاد رہے کہ یہ حملہ 31 جولائی کو مقبوضہ غرب ادرن کے علاقے نابلس کے قریب دومہ نامی گاؤں میں کیا گیا تھا جس میں سعد کے مکان کو رات گئے آگ لگائی گئی تھی۔

اس آگ میں ڈیڑھ سالہ بچہ علی سعد جل کر ہلاک ہو گیا تھا جبکہ ،ان کے والد، والدہ اور ایک بھائی شدید زخمی ہوئے تھے۔

علی سعد کے والد اور گھر کے سربراہ سعد الدوابشہ نے اسرائیل کے ایک ہسپتال میں سنیچر کو دم توڑا۔ اس واقعے میں وہ بری طرح جل گئے تھے جبکہ ان کی اہلیہ اور دوسرے بیٹے کی حالت بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔

32 سالہ سعد کو دومہ میں ہی سپردِ خاک کیا گیا تھا اور ان کی نمازِ جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

ان کے مکان پر حملے کا الزام یہودی آبادکاروں پر عائد کیا گیا ہے جنھوں نے بظاہر گھر کے قریب عبرانی زبان میں ’انتقام‘ کا لفظ بھی تحریر کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غرب اردن میں دو غیر قانونی یہودی آبادیوں میں چھاپوں کے دوران یہ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں

اس واقعے کی فلسطینی حکام کے علاوہ عالمی سطح پر بھی مذمت کی گئی تھی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینی بچے کے قاتلوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے اس حملے کو دہشت گردی کی واردات قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی میں کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔

اس سلسلے میں پہلی بار اسرائیلی حکام نے ایک مشتبہ یہودی کو بغیر کسی مقدمے کے جیل میں ڈالنے کا غیر معمولی قدمبھی اٹھایا ہے۔

غرب اردن میں آباد یہودی موڈیچائے میئر کو چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں لیا گيا ہے اور ان پر سعد کے مکان کو آگ لگانے کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے تعمیر کی گئی تقریباً 100 بستیوں میں پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں جو سنہ 1967 میں غرب اردن اور مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد وہاں آباد ہوئے ہیں۔

ان بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی کہا جاتا ہے لیکن اسرائیل اسے غیر قانونی نہیں سمجھتا۔

اسی بارے میں