میانمر میں سیلاب سے سو سے زائد افراد ہلاک، ایک لاکھ متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ہفتے ملک میں آنے والے طوفان کومین کے باعث سیلاب میں شدت آئی

میانمار میں حکام کے مطابق بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب سے جون سے اب تک تقریباً ایک لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

حکومت کے مطابق سیلاب کے باعث 100 سے زائد افراد ہلاک اور دس لاکھ 20 ہزار ایکڑ اراضی میں چاول کی فصل تباہ ہوچکی ہے۔

اگرچہ کچھ علاقوں میں سکول دوبارہ کھول دیے گئے ہیں تاہم اراودی کے علاقے کے لوگوں کو سیلاب کی تازہ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔

میانمار (جسے برما بھی کہا جاتا ہے) کو ہر سال مون سون کے موسم میں سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس سیلاب کا شمار کئی دہائیوں سے آنے والے سب سے بدترین سیلاب میں ہوتا ہے۔

گذشتہ ہفتے ملک میں آنے والے طوفان کومین کے باعث سیلاب میں شدت آئی جس نے ریاست رخائن میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی ہے۔

14 میں سے دو کے علاوہ تمام ریاستیں سیلاب سے متاثر ہوئی ہیں جبکہ زیادہ تر ہلاکتیں رخائن میں ہوئیں۔

ینگون میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے پیٹرک فیولر کا کہنا تھا کہ بہت سے علاقوں میں صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ ’بے سروسامانی کے عالم میں گھروں کو لوٹے‘ توگھروں سمیت ان کا مال اسباب مٹی میں دفن ہوچکا تھا۔

میانمار کے نیو لائٹ اخبار کے مطابق اتوار کو اراودی اور نگاون دریاؤں میں پانی کی سطح میں بتدریج کمی ہوئی ہے تاہم دریا بپھرے ہوئے ہونے کے باعث کناروں کو اب بھی خطرات لاحق ہیں۔

نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے زور دیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں