’ترکی دولتِ اسلامیہ کو تحفظ فراہم کررہا ہے‘

Image caption کرد رہنما جمیل بیک کے خیال میں صدر رجب طیب اردوغان کردوں کو کامیابیوں سے باز رکھنے کے لیے ’دولت اسلامیہ‘ کی کامیابی چاہتے ہیں

کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے رہنما نے ترکی پر الزام لگایا ہے کہ وہ کرد جنگجوؤں پر حملہ کرکے دولت اسلامیہ کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پی کے کے رہنما جمیل بیک نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں صدر رجب طیب اردوغان کردوں کو کامیابیوں سے باز رکھنے کے لیے ’دولت اسلامیہ‘ کی کامیابی چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ کرد جنگجوؤں جن میں پی کے کے بھی شامل ہے نے شام و عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے۔

لیکن مختلف مغربی ممالک کی طرح ترکی بھی پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔

خیال رہے کہ اس گرہ کے خلاف ترکی کا تنازع پرانا ہے لیکن دونوں کے درمیان ایک قسم کی جنگ بندی تھی جو کہ جولائی میں اس وقت خطرے میں نظر آنے لگی جب ترکی نے دولت اسلامیہ پر حملے کے ساتھ شمالی عراق میں پی کے کے کے کیمپوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے مقابلے پی کےکےکو زیادہ حملے کا سامنا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 1990 کی دہائی میں کردوں نے علیحدہ ملک کی بات چھوڑ کر کردوں کے لیے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کیا

بہر حال ترکی کے حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف مہم کردوں کی جیت کو روکنا نہیں ہے۔

بدھ کو ترکی نے کہا کہ وہ دولت اسلامیہ کے خلاف ’جامع معرکے‘ کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

جمیل بیک نے بی بی سی کے جیار گل کو بتایا کہ ’ترکی کا دعویٰ ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔۔۔ لیکن در حقیقت وہ پی کے کے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘

’وہ دولت اسلامیہ کے خلاف پی کے کے کی جنگ کو محدود کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ ترکی دولت اسلامیہ کو تحفظ فراہم کررہا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’(صدر) اردوغان دولت اسلامیہ کے قتل عام کے پس پشت ہیں۔ ان کا مقصد کردوں کی پیش قدی کو روکنا ہے تاکہ وہ ترکی میں ترکیت کو فروغ دے سکیں۔‘

واضح رہے کہ سنہ 1984 میں جب سے پی کے کے نے ترکی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا اس وقت سے اب تک تقریباً 40 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کا کہنا ہے کہ کرد گروپ کئی دوسرے حملوں کے مرتکب ہیں

سنہ 1990 کی دہائی میں کردوں نے علیحدہ ملک کی مطالبہ چھوڑ کر کردوں کے لیے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کیا۔

مارچ سنہ 2013 میں زیر حراست ان کے رہنما عبداللہ اجالان نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ لیکن حالیہ ہفتوں کے دوران تشدد میں اس وقت اضافہ ہوا جب کردوں کی اکثریت والے شہر سوروچ میں دولت اسلامیہ کے مبینہ خود کش حملے میں 32 افراد ہلاک ہو گئے۔

پی کے کے کے عسکری شعبے نے دو ترکی پولیس افسروں کو ہلاک کردیا اور یہ کہا کہ انھوں نے دولت اسلامیہ کے حملے میں ان کا ساتھ دیا تھا۔

ترکی کا کہنا ہے کہ کرد گروپ کئی دوسرے حملوں کے مرتکب ہیں۔

ترکی میڈیا کے مطابق اتوار کی شام استنبول کے سلطان بیلی ضلعے میں ایک پولیس سٹیشن کے قریب ہونے والے ایک بم دھماکے میں پانچ پولیس اہلکار اور دو شہری زخمی ہو گئےتھے۔ اس حملے کے پس پشت کون تھے یہ واضح نہیں ہو سکا۔

جب ترکی نے 24 جولائی کو سرکاری طورپر دولت اسلامیہ کے خلاف فضا‏‏ئی مہم کا آغاز کیا تو اس نے کردوں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 1984 سے پی کے کے نے ترکی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کر رکھا ہے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بیک نے کہا کرد مسئلے کا ’واحد حل‘ بات چیت ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ترکی اپنا فوجی آپریشن ختم کر دیتا ہے تو پی کے کے اپنی معرکہ آرائی بند کردے گا اور انھوں نے بین الاقوامی نگرانوں کو جنگ بندی پر نظر رکھنے کی بات بھی کہی۔

اس سے قبل ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا تھا کہ ترکی اس وقت تک حملے جاری رکھے گا جب تک کہ پی کے کے ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔

اسی بارے میں