عراقی پارلیمان نے اصلاحات کی منظوری دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رواں سال ملک میں شدید گرمی کے دوران بجلی کی قلت کے باعث ملک بھر میں وزیرِ اعظم حیدر العبادی کی حکومت کے خلاف عوام نے مظاہرے کیے تھے

عراق کی پارلیمان نے اتفاقِ رائے سے وزیراعظم حیدر العبادی کی ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور حکومتی اخراجات میں کمی سے متعلق اصلاحات کی منظوری دے دی ہے۔

عراقی پارلیمان کے سپیکر سلیم الجبری کے مطابق حیدر العبادی کے مجوزہ پروگرام کو بحث کے بغیر پیش کیا گیا۔

خیال رہے کہ حیدر العبادی کی جانب سے پیش کی جانے والی مجوزہ اصلاحات کے منصوبے میں بدعنوانی کے خاتمے کے مقصد کے تحت بڑی تعداد میں عہدوں پر غیر سیاسی لوگوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

منصوبے کے تحت سرکاری اہلکاروں کے نجی محافظوں کی تعداد میں کمی کی جائے گی جبکہ قومی سلامتی اداروں کے بجٹ میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

حیدر العبادی کا یہ فیصلہ حالیہ دنوں ملک بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال ملک میں شدید گرمی کے دوران بجلی کی قلت کے باعث ملک بھر میں وزیرِ اعظم حیدر العبادی کی حکومت کے خلاف عوام نے مظاہرے کیے تھے۔

دارالحکومت بغداد اور دیگر شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کر کے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکام پر نظام میں تبدیلیاں لانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

عراق میں حکومتی عہدے تقسیم کرنے کے نظام کے بارے میں کافی عرصہ سے تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ نااہل لوگوں کی تعیناتی اور بدعنوانی کا سبب بنتا ہے۔

ملک کے تین نائب صدر ہیں جن میں سے دو شیعہ اور ایک سنّی ہیں اور اسی طرح ملک کے تین نائب وزیرِاعظم ہیں، ایک شیعہ ایک سنی اور ایک کرد۔

حیدر العبادی کی اصلاحات کے نتیجے میں اعلیٰ عہدوں پر سیاسی تقرریاں فرقہ وارانہ یا جماعتی کوٹے کی بنیاد پر نہیں ہوں گی اور اس کے ساتھ نائب صدر اور نائب وزیرِاعظم کے عہدے بھی ختم ہو جائیں گے۔

عراق کے وزیرِ اعظم کے سات نکاتی منصوبے میں بدعنوانی کے خاتمے کے مقصد کے تحت بڑی تعداد میں عہدوں پر غیر سیاسی لوگوں کی تعیناتی بھی شامل ہے جس کا مقصد بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔

عراقی پارلیمان کی جانب سے منظور کی جانے والی اصلاحات پر متعدد افراد نے منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے حیدر العبادی کی فتح قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں