جاپان کےسینڈائی جوہری پلانٹ نے پھر سے کام شروع کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینڈائی کے جوہری پلانٹ پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

جاپان نے نئے حفاظتی ضابطوں کے تحت سینڈائی جوہری ری ایکٹر کو پھرچلانا شروع کردیا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2011 میں فوکوشیما کے جوہری پلانٹ میں ہونے والے حادثے کے بعد نئے حفاظتی ضوابط بنائے گئے تھے اور جاپان کے تمام جوہری ری ایکٹروں کو رفتہ رفتہ بند کردیا گيا تھا۔

کیوشو الیکٹرک پاور نے کہا ہے کہ نئی سخت جانچ پڑتال کے بعد اب وہ اپنا نمبر ایک ری ایکٹر سینڈائي پلانٹ منگل کی صبح سے چلانا شروع کر رہے ہیں۔

جاپان میں توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں نے عوام کی سخت مخالفت کے باوجود 25 ری ایکٹروں کو پھر سے چلانے کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔

خیال رہے کہ زلزلے اور سونامی کے بعد فوکوشیما ڈائچی پلانٹ میں زہریلے مادے کا اخراج شروع ہوگیا تھا۔

وزیر اعظم شینزو ابی نے پیر کو کہا تھا کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ ری ایکٹروں کو ’دنیا کی سخت ترین حفاظتی جانچ سے گزرنے کے بعد‘ پھر سے جاری کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہت سے مقامی افراد نے جوہری پلانٹ کے پھر سے شروع کیے جانے کی مخالفت کی

انھوں نے کہا: ’میں چاہتا ہوں کہ کیوشو الیکٹرک سیفٹی کو اولین ترجیح دے اور اسے دوبارہ شروع کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لے۔‘

حکومت نے کہا کہ توانائی کی درآمد پر ہونے والے زبردست اخراجات کو کم کرنے اور ملک میں کاربن کے اخراج میں اضافے کو روکنے کے لیے جاپان کو جوہری توانائی کی ضرورت ہے۔

ٹوکیو میں ہمارے نمائندے روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز کا کہنا ہے کہ سینڈائي پلانٹ میں نئے حفاظتی نظام نصب کرنے پر 10 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ خرچ کیے گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے دنوں سے بند پڑے ری ایکٹروں کو پھر سے جاری کرنے میں ابتدائی پریشانیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

جاپان کی جوہری ضابطہ کار اتھارٹی نے سنیڈائی میں دو جوہری ری ایکٹروں کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔ دوسرا ری ایکٹر اکتوبر میں چلایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سینڈائی جوہری پلانٹ کا نمبر ایک ری ایکٹر منگل سے شروع کیا جا رہا ہے

پہلا ری ایکٹر جمعے سے بجلی پیدا کرنا شروع کر دے گا جبکہ وہ اپنی پوری صلاحیت پر اگلے ماہ پہنچے گا۔

مقامی باشندوں نے علاقے میں متحرک آتش فشاں کے ممکنہ خطرات پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرہ کیا ہے۔

فوکوشیما بحران کے وقت رہنے والے وزیر اعظم ناؤٹوکان نے مظاہرین کی بھیڑ کو کہا: ’ہمیں جوہری تنصیبات نہیں چاہیے۔‘

انھوں نے کہا ’فوکوشیما کے سانحے نے محفوظ اور سستی جوہری توانائی کا پول کھول دیا ہے اور یہ خطرناک اور مہنگی ثابت ہوئی۔‘

اسی بارے میں