’ کلنٹن، اوباما عراق بدامنی کے ذمہ دار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکی صدارتی امیدوار جیب بش اپنے عوام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں عدم استحکام کا قصور براک اوباما کا ہے اور اسی ضمن میں اوباما کی سابقہ وزیرِ خارجہ اور جیب بش کی آئندہ انتخابات میں متوقع حریف ہلیری کلنٹن بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔

امریکی قدامت پرستوں کے لیے علامتی طور پر اہم ترین مقام ریاست کیلیفورنیا میں ریگن پریزیڈنشل لائبریری ہے۔ یہاں منگل کی شام 40 منٹ کی تقریر کے دوران جیب بش نے وہی موقف دہرایا جو رپبلکن پارٹی کے کئی صدارتی امیدوار دہرا چکے ہیں اور وہ یہ کہ عراق سے قبل از وقت فوجیں نکال کر اوباما انتظامیہ بشمول ہلیری کلنٹن نے ایک انتہائی بڑی غلطی کی جس کی وجہ سے عراق عدم استحکام کا شکار ہو گیا اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے لیے جگہ بن گئی۔

انھوں نے صدر اوباما اور ہلیری کلنٹن کے بارے میں کہا کہ ’تاریخ ساز بننے کے شوق میں وہ امن ساز نہ بن سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ وہاں سے نکالنے اور افسوس ناک نتائج کو کسی اور کا مسئلہ قرار دینے کی اندھی جلد بازی تھی۔ خطروں سے دور بھاگنا اتنا ہی بے وقوفانہ ہو سکتا ہے جتنا خطروں کی طرف بھاگنا۔ اس سب کی قیمت بہت بڑی ہو سکتی ہے۔‘

یاد رہے کہ جیب بش کے بھائی سابق امریکی صدر جارج بش پر ایک خطرناک جنگ کی طرف بے جا بھاگنے کا الزام 2003 میں عراق پر حملہ کرنے کے حوالے سے اکثر لگایا جاتا ہے۔

اگر آپ کا خاندانی نام بش ہو تو عراق کے مسئلے پر بات کرنا آسان کام نہیں۔ مئی میں جیب بش کو اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب بظاہر وہ اس سوال کا جواب واضح طور نہیں دے سکے کہ موجودہ معلومات کی روشنی میں کیا وہ 2003 میں عراق پر حملہ کرتے یا نہیں۔ پہلے انھوں نے کہا کہ وہ خیالی صورتحال کے بارے میں بیان نہیں دیں گے اور بعد میں انھوں نے کہا کہ میں موجودہ معلومات کے ساتھ حملہ نہ کرتا۔

منگل کی شام اپنی تقریر میں انھوں نے اپنے بھائی کا نام تو نہیں لیا تاہم جارج بش کی خارجہ پالیسی کے بارے میں متعدد بار دبے الفاظ میں تبصرہ ضرور کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’2008 میں عراق سے فوجیں واپس بلانے کا معاہدہ صدر بش کے دورِ حکومت میں طے پا گیا تھا‘

انھوں نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں ملوث کوئی بھی رہنما یا پالیسی ساز یہ دعویٰ نہیں کرے گا کہ انھوں نے تمام فیصلے درست کیے، خاص کر عراق کے حوالے سے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج کو مشرقِ وسطیٰ میں مزید کردار ادا کرنا چاہیے تاہم انھوں نے اس کردار کی وضاحت نہیں کی۔ انھوں نے شام کی فضائی حدود میں نو فلائی زون کے قیام، شام میں سیف زونز کی تشکیل، صدر بشارالاسد کی برطرفی، اور عراق میں کردوں کو امداد بڑھانے کی حمایت کی۔

جیب بش کی تقریر کے بعد ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم میں کام کرنے والے جیک سلویئن کا کہنا تھا کہ جیب بش کی جانب سے یہ تاریخ کو بدلنے اور ذمہ داری کسی اور پر ڈالنے کی دلیرانہ کوشش تھی۔ انھوں نے یاد دہانی کروائی کہ 2008 میں عراق سے فوجیں واپس بلانے کا معاہدہ صدر بش کے دورِ حکومت میں طے پا گیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ دولتِ اسلامیہ نامی تنظیم کا پیدا ہونا بش انتظامیہ کا قصور ہے کیونکہ انھوں نے کچھ غلط اقدامات کیے جیسے کہ 2003 میں عراق فوج کو ختم کر دینا اور سنی مسلک کو نظر انداز کرنا۔

یہ تقریر جیب بش اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے درمیان جاری الزامات کی جنگ کی تازہ ترین کڑی ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر لگائے الزامات میں زیادہ تر ایک دوسرے کی جماعت کے بنیادی عقائد پر مبنی ہیں۔ گذشتہ ہفتے ہلیری کلنٹن نے جیب بش کے بطور فلوریڈا کے گونر حکومتی ریکارڈ پر بھی تنقید کی تھی۔

جیب بش اور ہلیری کلنٹن اس وقت بالترتیب رپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے اہم ترین صدارتی امیدوار ہیں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2016 کے انتخابات میں انہی دونوں کا آمنا سامنا ہوگا۔

شاید جیب بش اس مقولے پر عمل کر رہے ہیں کہ بہترین دفاع جارحیت ہوتی ہے۔

اسی بارے میں