کیا اطالوی دنیا کی بہترین کافی بناتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مشہور کافی چین سٹار بکس ہر جگہ ہے، سوائے اٹلی کے۔

حالانکہ سٹار بکس کے بانی ہاورڈ شلز کو اِس کا خیال سوجھا ہی جب تھا جب وہ میلان کے ایک کافی بار میں ایسپریسو کی چسکیاں لے رہے تھے۔

شاید آپ کہیں، تو کیا ہوا؟ انھوں نے ایک روایتی چیز لی، اُس کو نئی صورت دی، اور دنیا بھر میں پھیلا دیا۔

لیکن اٹلی کے لوگوں کے نزدیک سٹار بکس پر ملنے والی کافی کا اٹلی میں ملنے والی کافی سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ باوجود اِس کے کہ آپ کو سٹاربکس کے مینو میں اطالوی کافی سے ملتے جلتے کئی نام ملیں گے۔

اب وقت آگیا ہے کہ میں آپ پر ظاہر کردوں کہ میری رگوں میں اطالوی خون دوڑ رہا ہے اور دیگر اطالویوں کی طرح میں بھی یہی سمجھتی ہوں کہ کافی کے معاملے میں اٹلی کا معیار سب سے اونچا ہے۔ اتنا اونچا کہ باقی دنیا کو چاہیے کہ وہ کافی کے معیار کو اطالوی ترازو ہی سے جانچیں۔

جب میرے اطالوی رشتے دار یا دوست احباب کیپی چینو میں ہیزل نٹ سیرپ ڈالنے یا دارچینی کا سفوف چھڑکنے کے خیال سے ہی لرز جاتے ہیں تو اُن کے احساسات میں سمجھ سکتی ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جیسے برطانویوں کے تقریباً ہر گھر میں چائے کی کیتلی ہوتی ہے اُس ہی طرح میرے گھر میں آپ کو موکا مشین، یعنی کافی بنانے والی مشین ملے گی۔ جہاں تک میری پسند کا تعلق ہے تو دکانوں پر ملنے والی کیپی چینو، لاتے، ایسپریسو، کافی ذائقے میں بس گرم اور تلخ ہوتی ہیں اور اصل کافی کی محض نقالی ہوتی ہیں۔

میں یہاں کوئی نکتہ بھول تو نہیں رہی؟ کیا میرا ذوق صرف علاقائی سطح تک محدود ہے اور دنیا بھر میں بدلتے ہوئے ذائقے آگے نکل گئے ہیں اور میں پیچھے رہ گئی ہوں؟ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ نہ صرف اطالوی کافی کو اٹلی سے دیس نکالا مل گیا ہے بلکہ کافی میں سے بھی اطالوی ذائقے کو نکال باہر کر دیا گیا ہے۔

انٹرنیشنل کافی آرگنائزیشن کے مطابق رواں صدی میں عالمی سطح پر کافی کی کھپت میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہم پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ کافی پی رہے ہیں اور اس سے پچھلی کچھ دہائیوں میں دنیا بھر میں کافی کے ریستورانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ جو کافی پی جا رہی ہے وہ اطالوی ذائقے کی نہیں ہے۔

بہترین کافی کشید کرنے کاایوارڈ لینے والے لندن کے سکوئر مائل کافی روسٹر کے جیمز ہف مین کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں جو ایسپریسو برآمد کی گئی ہے وہ اطالوی ایسپریسو کی ایک مضحکہ خیز شکل ہے۔‘

اُن کا تعلق اُس نسل سے ہے جن کو بہترین کافی کشید کرنے کی تربیت دی جاتی ہے اور جو نفیس طریقے سے کافی کشید کرنے کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے اِس شعبے میں جدّت لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ہف مین کہتے ہیں: ’دنیا بھر میں جس طرح کی کافی یا ایسپریسو پسند کی جاتی ہے وہ روایتی اطالوی کافی سے بہت کم مماثلت رکھتی ہے۔‘

مثال کے طور پر آپ اٹلی میں کبھی ’لاتے‘ کی فرمائش نہیں کریں گے۔ اور اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کے آگے دودھ کا گلاس رکھ دیا جائے گا۔ نہ ہی آپ کو ایسپریسو کے نام سے آرڈر دینے کی ضرورت ہے، بس ’ایک کیفے‘ کہہ دینے سے ہی بات بن جائے گی۔ اٹلی میں کافی اور ایسپریسو کے معنی ایک ہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کافی کی ایک قسم آسٹریلین ’فلیٹ وائٹ‘ بھی ہے۔ یہ سٹار بکس سٹائل لاتے (25 ملی لیٹر کے ایسپریسوکپ میں گرم دودھ کی بڑی مقدار) اور ماکیاٹو (25 ملی لیٹر کے ایسپریسو کپ میں گرم دودھ یا گرم دودھ کے جھاگ کے چند قطرے) کے درمیان کی چیز ہے۔ ’فلیٹ وائٹ‘ دنیا بھر میں خاصی مقبول ہے، امریکہ کے کچھ حصوں میں تو سٹاربکس کی کافی کی فہرست میں اب آپ کو کیپی چینو کی جگہ فلیٹ وائٹ ہی ملے گی۔

یہ بھی بتا دوں کہ اٹلی میں آپ کو لوگ کافی شاپ کی آرام دہ کرسیوں میں بیٹھے کافی پیتے ہوئے انٹرنیٹ استعمال کرتے نظر نہیں آئیں گے۔ اس کی بجائے وہ لوگ جگہ جگہ بنی کافی بار (جی ہاں بار، کیفے نہیں) میں سنگِ مرمر کے کاؤنٹروں پر ’ایک کیفے‘ پیتے نظر آئیں گے۔

اگر کافی کے ذائقے اور اُسے کشید کرنے کے طریقے کی بات کی جائے تو اٹلی اس حوالے سے اپنا مقام واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اٹالین ایسپریسو نیشنل انسٹی ٹیوٹ یا آئی این ای آئی کا قیام کافی پینے کے اطالوی طرز کو تحفظ دینے کے لیے عمل میں آیا تھا۔

آئی این ای آئی کے چیئرمین لُوئی جی زیک کینی اپنی آرگنائزیشن کی ویب سائٹ پر لکھتے ہیں: ’بین الاقوامی کافی کی چینز دنیا بھر میں پھیل رہی ہیں اور وہ اپنی کافی کو اطالوی کافی کہتی ہیں، جب کہ ہماری ایسپریسو کے پیچھے ایک منفرد اور اٹل روایت موجود ہے۔‘

آئی این ای آئی اُن لوگوں کے لیے باقاعدہ تصدیقی اسناد بھی پیش کرتی ہے جو ’درست‘ (یہاں درست سے مراد اطالوی طریقہ ہے) طریقہ استعمال کرتے ہیں۔

کیا وہ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں؟ کافی کشید کرنے کا ایوارڈ پانے والے لندن کے کیفے ’پُروفروک کافی‘ کے جیریمی چیلنڈر کہتے ہیں: ’کافی کے بیجوں کو بھوننے اور کافی کے ایک اچھے کپ کا ذائقہ لینے کے طریقے روز بروز دنیا میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔‘

کچھ بھی ہو، کئی کافی خود کشید کرنے والے کئی بڑے ریستوران اب بھی کافی چینز میں ملنے والی کافی کو ناپسند کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سکوئر مائل کافی روسٹر کے ہف مین کہتے ہیں کہ ساری بات اس پر آ کے رک جاتی ہے کہ کافی کے بیجوں کو کس طرح بھونا گیا ہے۔ کئی چینز اپنی کافی کو اتنا بھونتی ہیں کہ اس کا رنگ گہرا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ذائقہ تلخ ہو جاتا ہے۔ ہلکا بھوننے سے زیادہ نفیس ذائقہ حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن اگر صحیح طریقے سے ایسا نہ کیا جائے تو ذائقے میں کھٹاس سی آ جاتی ہے۔

ہف مین کہتے ہیں: ’میرے خیال میں ایسا ہے کہ صارفین میں کافی کی تلخی برداشت کرنے کی سکت اور اُس میں کھٹاس برداشت کرنے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی کمپنیاں یہ رِسک لینے سے کتراتی ہیں۔‘

آخر میں بات کافی کے خام بیجوں پر آ کر رکتی ہے، اور ان کی قیمت اٹلی میں اتنی نہیں جتنی کہ اٹلی سے باہر کئی کافی شاپس میں ہے۔

مسئلے کی ایک وجہ ’ان کیفے‘ کی قیمت بھی ہے۔ اٹلی میں کافی کے زیادہ تر باروں میں ایک کپ کی قیمت ایک یورو سے زیادہ نہیں ہوتی۔

ہف مین کہتے ہیں: ’اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اٹلی میں اچھی معیاری کافی کی کھپت اتنی زیادہ ہے کہ اُس کی قیمت کم ہے اور مزید اچھے معیار کی کافی میسر ہی نہیں ہے۔‘

اطالوی کافی کا ذائقہ کافی کشید کیے جانے کے مخصوص طریقے کی وجہ سے ویسے کا ویسا قائم ہے۔ اٹلی کے تقریباً ہر بار میں ذرا سی کمی بیشی کے ساتھ ایک ایسپریسو میں سات گرام کافی پاؤڈر استعمال ہوتا ہے۔ خصوصی کافی شاپس میں زیادہ کافی استعمال کی جاتی ہے، مثلاً ایک ایسپریسو کپ میں آٹھ تا 20 گرام کافی، جس سے کافی کے ذائقے میں شدت آجاتی ہے۔

کچھ بھی ہو، میرے خیال ہے میں گھر میں اپنی قابل اعتماد موکا مشین سے کشید ہونے والی کافی ہی کو ترجیح دوں گی، اور اطالوی طرز کی کافی ہی پیتی رہوں گی۔

جس کا مطلب ہے، صبح ایک چھوٹا کپ تیز ایسپریسو کا، شاید رات کے کھانے کے بعد بھی، لیکن صبح 11 بجے کے بعد کیپی چینو ہرگز نہیں۔

اور نہ ہی کوئی بھی دودھ والی کافی کسی بھی کھانے کے بعد، یہ ہاضمے کے لیے اچھی نہیں ہوتی۔ ہر اطالوی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے۔

اسی بارے میں