’عراق میں دولت اسلامیہ نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سے قبل شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر کرد فوج کے خلاف کلورین گیس استعمال کرنے کا الزام تھا

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شمالی عراق میں کردوں کے خلاف حملے میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

جرمنی کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں عراق کے شہر اربیل میں ہونے والے حملے کے بعد کرد فوجیوں کو سانس لینے میں دشواری ہوئی ہے۔

انھوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ دولتِ اسلامیہ نےکون سا کیمیکل استعمال کیا ہے لیکن امریکی حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ اُن کے خیال میں شدت پسندوں نے مسٹرڈ ایجنٹ استعمال کیا ہے۔

اس سے قبل تنظیم دولتِ اسلامیہ پر کرد فوج کے خلاف کلورین گیس استعمال کرنے کا الزام تھا۔

امریکی حکام نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ نے عراق کے ہمسایہ ملک شام سے مسٹرڈ ایجنٹ حاصل کیا ہے۔

اس سے قبل شام کی حکومت نے کہا تھا کہ اُس نے کیمیائی ہتھیاروں کا تمام ذخیرہ تلف کر دیا ہے۔

سابق عراقی صدر صدام حسین نے کردوں اور ایران کے خلاف جنگ میں مسٹرڈ ایجنٹ جیسے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔

امریکی محکمۂ دفاع کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بارے میں آگاہ ہیں اور معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

مسٹرڈ ایجنٹ یا گندھک مسٹرڈ کے استعمال سے آنکھیں اور جلد میں شدید جلن ہوتی ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

جرمنی کی وزارتِ دفاع، جو ان دنوں کرد فوج کی تربیت کر رہی ہے، کا کہنا ہے کہ عراقی اور امریکی ماہرین جائے وقوعہ پر پہنچ رہے ہیں تاکہ اس بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملے کے بعد 60 کے قریب کرد فوجیوں کا نظامِ تنفس خراب ہوا ہے۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمیں ایسے اشارے ملے ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا ہے۔‘

کردوں کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ نے اربیل شہر حملہ کیا تھا۔

رواں سال کے آغاز میں عراق کے شمال میں خودمختار کرد حکومت نے کہا تھا کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کار بم دھماکے میں کلورین گیس استعمال کی ہے۔

اسی بارے میں