جاپان اور جنوبی کوریا میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی تقاریب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جاپانی وزیر اعظم شنزو ابے نے کہا کہ ان کا ملک جنگ کی خوفناکیوں کو کبھی نہیں بھولے گا

جاپان میں دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے 70 سال مکمل ہونے پر مختلف تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں جبکہ اسے چین اور جنوبی کوریا کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

چین اور جنوبی کوریا نے جاپان کو اس لیے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ اس نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران اپنے کردار پر مناسب طریقے سے تعصف کا اظہار نہیں کیا۔

ٹوکیو میں سنیچر کو ایک تقریب میں وزیر اعظم شنزو آبے اور بادشاہ اکیہیتو نے شرکت کر کے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

اس سے پہلے جمعے کو جاپانی وزیرِ اعظم شنزو آبے نے دوسری جنگِ عظیم کے متعلق جاپان کے کردار پر ’شدید رنج و الم‘ کا اظہار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنوبی کوریا کے طلبہ نے شنزو ابے کے بیان کے خلاف مظاہرہ کے طور پر ایک بڑے جاپانی پرچم کو ٹکڑے ٹکڑے کیا

تاہم جنوبی کوریا کی صدر پارک گوئن ہائی نے جاپانی وزیرِ اعظم کے ریمارکس کو ’بہت سی ضروری باتیں چھوڑ دیں‘ قرار دیا۔

انھوں نے سیول میں سنیچر کو ملک کی آزادی کے سلسلے میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر ابے نے ’بہت سے چیزیں جو انھیں کہنی چاہیے تھیں چھوڑ دیں۔‘

انھوں نے جاپان کی جانب سے پڑوسی ممالک پر جنگ کے دوران کی جانے والی زیادتیوں کے لیے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا: ’تاريخ پر کبھی بھی پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔ تاریخ اپنے شاہدین اور واضح شواہد کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔‘

انھوں نے جاپان سے ’کمفرٹ وومن‘ کے مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ جنگ کے زمانے میں قبحہ خانوں میں جاپانی فوجیوں کے لیے ایشیائی خاتون کو جنسی غلاموں کے طور پر زبردستی رکھا جاتا تھا۔

واضح رہے کہ چین اور جنوبی کوریا کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے قبضے کے نتیجے میں بہت زیادہ نقصانات اٹھانے پڑے تھے۔ ان دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ جاپان کے وزیر اعظم کو ’مزید سنجیدہ بیان‘ دینا چاہیے۔

دوسری جانب شنزو آبے نے جنگ عظیم کی زیادتیوں پر پھر سے معافی مانگنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جاپان کی آنے والی نسل کو جنگ کے دوران ملک کے کردار پر ’طے شدہ معافی مانگنے‘ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جنوبی کوریا کی صدر پارک نے سنیچر کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر ابے نے بہت سے چیزیں جو انھیں کہنی چاہیے تھی وہ چھوڑ دیں

شنزو آبے رواں سال متنازع یاسوکونی جنگی قبرستان کا دورہ نہیں کریں گے تاہم وہاں اس سلسلے میں روایتی تقریب منعقد ہوگي۔

رکن پارلیمان اور ابے کی مشیر کوئیچی ہاگوئیڈا نے اس قبرستان کا دورہ کیا اور وزیر اعظم کی جانب سے کیش رقم کا نذرانہ پیش کیا۔

انھوں نے کہا: ’میں نے ان روحوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنھوں نے ماضی کی جنگ میں اپنی جانوں کی قربانی دی۔‘

چین اور جنوبی کوریا اس قبرستان پر تنقید کرتے ہیں کیونکہ اس میں جاپان کی جنگ میں مرنے والوں کے ساتھ اظہار عقیدت کے علاوہ ان رہنماؤں کی بھی تعظیم کی جاتی ہے جنھیں بعد میں جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شمالی کوریا نے اپنی گھڑیوں کو 30 منٹ پیچھے کر لیا

اس موقعے پر جہاں ماضی میں ہونے والی جنگی زیادتیوں کا ذکر ہوگا وہیں ’خطے میں جاری کشیدگی‘ کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔

ادھر اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا کے ہزاروں باشندے سنیچر کو جاپان کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔ گذشتہ ہفتے ایک کوریائی شخص نے سیول میں جاپانی سفارت خانے کے سامنے خود سوزی کر لی تھی۔

دوسری جانب شمالی کوریا میں جاپان کے نوآبادیاتی دور سے نکلنے کی علامت کے طور پر گھڑیوں کو مقامی وقت کے حساب سے 30 منٹ پیچھے کر لیا گیا۔

خیال رہے کہ سنہ 1995 میں جاپان کے وزیر اعظم تومی ایچی مورایاما نے جاپان کے نوآبادیاتی دور اقتدار اور جارحیت کے لیے ’تاریخی معافی‘ مانگی تھی اور دس سال بعد ان کے بیان کو اپنے وقت کے وزیر اعظم جونیچيرو کوئیزومی نے دہرایا تھا۔

اسی بارے میں