چینی وزیرِاعظم کا تیانجن کا دورہ، 95 افراد تاحال لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جائے حادثہ پر دو مقامات پر سینکڑوں ٹن سوڈیم سائنائیڈ نامی زہریلا کیمیائی مادے کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں

چین کے وزیرِ اعظم لی کیچیانگ نے ساحلی شہر تیانجن میں بدھ کی شب ہونے والے انتہائی زوردار دھماکوں کے متاثرین سے ملاقات کی ہے۔

صنعتی گوداموں میں ہونے والے ان دھماکوں کم از کم 112 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 95 افراد جن میں سے بیشتر آگ بجھانے والے کارکن ہیں، تاحال لاپتہ ہیں۔

تیانجن میں دھماکوں سے تباہی کی تصاویر

شن ہوا کے مطابق چینی وزیرِاعظم لی کیچیانگ نے اتوار کو پہلے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور پھر دھماکوں میں زخمی اور ان کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے افراد سے ملاقات کی ہے۔

دھماکے کے 721 زخمیوں میں سے 25 کی حالت نازک جبکہ 33 کی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

چینی وزیرِ اعظم ان امدادی کارکنوں اور ماحولیاتی مبصرین سے بھی ملے جو جائے حادثہ کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور چین کے ایک سینیئر عسکری افسر کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ پر دو مقامات پر سینکڑوں ٹن سوڈیم سائنائیڈ نامی زہریلا کیمیائی مادے کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔

یہ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے چند افراد کی شناخت ہی ممکن ہو سکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حادثے میں لاپتہ ہونے والے افراد کے عزیز و اقارب نے سرکاری اہلکاروں کی ایک پریس کانفرنس کے دوران بھی احتجاج کیا

ادھر چین میں درجنوں ویب سائٹس کو مبینہ طور پر اس حادثے کے بارے میں افواہیں پھیلانے کے الزامات لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق ان دھماکوں کے حوالے سے50 ویب سائٹس پر غیر مصدقہ اطلاعات شائع کر کے خوف و ہراس پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کو ہونے والے دھماکوں کے بعد سے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر سینکڑوں اکاؤنٹس بھی بند کردیے گئے ہیں۔

حکام کی جانب سے اتوار کی صبح ایک پریس کانفرس میں بتایا گیا کہ 24 افراد کی لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ باقی لاشوں کی شناخت کے لیے ماہرین ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چینی حکام نے شمالی شہر تیانجن میں ہونے والے دھماکے کے بعد کیمیکل پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر جائے حادثہ کے تین کلومیٹر کے رقبے کے اندر سے لوگوں کے انخلا کا حکم جاری کیا تھا۔

سنیچر کو حادثے میں لاپتہ ہونے والے افراد کے عزیز و اقارب نے سرکاری اہلکاروں کی ایک پریس کانفرنس کے دوران بھی احتجاج کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وہ اپنے پیاروں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے چند افراد کی شناخت ہی ممکن ہو سکی ہے

اسی بارے میں