شام: دوما میں سرکاری فوج کے فضائی حملوں میں ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دوما میں فوج کی فضائی کارروائی

شام میں حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق سرکاری فوج کے باغیوں کے زیر قبضہ شہر دوما‎ پر فضائی حملوں میں کم از کم 80 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کارکنوں کے مطابق شہر میں ایک بازار کو فضائی حملوں میں ہدف بنایا گیا اور ان حملوں میں دو سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

جنگ دولت اسلامیہ کے خلاف لیکن کون کسے مار رہا ہے؟

ابھی تک حکومت کی جانب سے اس دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

شام کے دارالحکومت دمشق سے متصل دوما پر باغیوں کا قبضہ ہے اور سکیورٹی فورسز حالیہ مہینوں میں اکثر یہاں فضائی حملوں میں باغیوں کو ٹارگٹ کرتی ہے۔

اس علاقے میں باغیوں کے ٹھکانوں کے ساتھ رہائش پذیر سینکڑوں عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

علاقے میں حکومت مخالف کارکنوں کے ایک نیٹ ورک کے مطابق فضائی بمباری کے نتیجے میں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

دوما میں ایک کارن نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے صورتحال کو’تباہ کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں طبی مراکز زخمیوں سے بھر چکے ہیں اور ایمبولینس کی کمی کی وجہ سے لوگ اپنی گاڑیوں میں زخمیوں کو دیگر طبی مراکز میں پہنچا رہے ہیں۔

Image caption شام میں مارچ 2011 سے حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں نقل مکانی پر مجبور ہوئے

حکومت کی جانب سے دوما میں فضائی کارروائی ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب اقوام متحدہ میں فلاحی کاموں کے سربراہ سٹیفن اؤ برائن مئی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پہلی بار شام کا دورہ کر رہے ہیں۔

دوما میں نامہ نگاروں کے مطابق یہ شہر دارالحکومت دمشق کے مرکز سے محض 11 کلومیٹر دور واقع ہے اور یہاں سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان معمول سے جھڑپیں ہوتی ہیں۔

یہاں سے باغی دمشق پر اکٹ داغتے ہیں اور جواب میں سکیورٹی فورسز ان کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کرتی ہے۔

شام میں مارچ 2011 سے حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

اسی بارے میں