عراق کی حالت ِزار، کلنٹن اور بش میں الزامات کا تبادلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ میں رپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار عراق پر امریکی حملے کے بعد پیدا ہونے والے صورت حال پر ایک دوسرے کی جماعت کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

عراق میں تباہی، بربادی اور عدم استحکام کے حوالے سے الزامات اور جوابی الزامات عائد کرنے کا سلسلہ گذشتہ ہفتے شروع ہوا تھا۔

اس سلسلے میں پہل امریکہ کے صدارتی امیدوار اور رپبلکن پارٹی کے رہنما جیب بش نے کی تھی جب انھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کو عراق میں قیامِ امن میں ناکامی اور عدم استحکام پر شدید تنقید کا نشانہ بنایاتھا۔

گذشتہ منگل کو جیب بش نے اوباما انتظامیہ کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ سنہ 2011 میں عراق میں ’قبل از وقت فوجی انخلا ‘ کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔

جیب بش پر جوابی وار کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ اس وقت کے صدر ان کے بھائی جارج بش ہی تھے جنھوں نے امریکی فوج کا انخلا شروع کیا تھا۔

سنہ2003 میں امریکی حملے کے بعد سے عراق بحران کا شکار ہے۔

جیب بش نے سنہ 2011 میں امریکی فوج کے انخلا کو بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے حالات غیر مستحکم ہوئے اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو وہاں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔

جیب بش نے اوباما اور ہلیری کلنٹن کے بارے میں کہا کہ ’تاریخ رقم کرنے کے خواہشمند صلح کار بننے میں ناکام رہے۔‘

ہلیری کلنٹن سنہ 2009 سے سنہ 2013 تک اوباما کی کابینہ میں وزیرِ خارجہ رہی ہیں۔

کیلیفورنیا میں ایک جلسے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’خطرے سے دور بھاگنا ایسی ہی بےوقوفی ہے جیسا خطرہ مول لینے کی جلدی۔‘

ہلیری کلنٹن نے ریاست آئیووا میں اپنی انتخابی مہم کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’معاملے کے تمام پہلو دیکھنے چاہییں، جن میں جارج بش اور عراق کی حکومت کے ساتھ کیا گیا وہ معاہدہ بھی شامل ہے جس میں سنہ 2011 کے اختتام پر عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے بات کی گئی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے حیرت ہوگی کہ اگر انھیں معلوم نہ ہو یا وہ یہ سمجھتے ہوں کہ عوام اسے بھول چکے ہیں۔‘

اس سے قبل جیب بش کا اس بات پر مذاق بنایا گیا تھا جب انھوں نے یہ کہنے کی کوشش کی کہ وہ عراق پر حملے کی منظوری دیں گے۔

شروع میں ان کا کہنا تھا کہ وہ حملہ کریں گے۔ پھر انھوں نے کہا کہ وہ مفروضوں میں نہیں پڑیں گے اور آخر کار انھوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ نہیں کریں گے۔

ہلیری نے 2002 میں عراق پر حملے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم بعد میں انھوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا تھا۔

اسی بارے میں