مصر میں انسداد دہشتگردی کے سخت قوانین کا نفاذ

Image caption فروری میں السیسی نے ایک اور انسداد دہشت گردی کا قانون منظور کیا تھا جس کے تحت حکام کو بے پناہ اختیارات دے دیے گئے تھے

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ملک میں بڑھتی ہوئی اسلام پسند عناصر کی بغاوت کے خلاف لڑنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے سخت قانون کی منظوری دے دی ہے۔

اس قانون کے تحت خصوصی عدالت کا قیام عمل میں آئےگا اور قوت کا استعمال کرنے والے فوجیوں اور پولیس افسروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے انھیں اضافی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

اس میں دہشت گرد گروہ کے قیام یا اس کی قیادت کا مجرم پائے جانے پر سزائے موت تجویز کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے السیسی اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو کچلنے کا کام کریں گے۔

گذشتہ دو برسوں سے مصر اسلام پسند گروہوں کی جانب سے بغاوت کا شکار رہا ہے اور اس کا مقصد السیسی کی حکومت کو گرانا ہے۔

جون میں ایک کار بم دھماکے میں ایک سرکاری وکیل کی ہلاکت کے بعد مصری حکومت نے سخت قانون بنانے کی بات کہی تھی۔

پیر سے جاری ہونے والے نئے قانون کے تحت:

  • مشتبہ جنگجوؤں کے مقدمات کی سماعت تیزی سے کام کرنے والی خصوصی عدالت کے تحت کیا جائے گا۔ اگر کسی کو جنگجو گروپ میں شامل ہونے کا مجرم پایا گیا تو اسے دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
  • دہشت گردی کو مالی تعاون فراہم کرنے پر عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے جو کہ 25 سال ہے۔
  • تشدد بھڑکانے اور دہشت گردی کے پیغامات پھیلانے والی ویب سائٹ بنانے کے لیے پانچ سے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
  • جنگجوؤں کی جانب سے حملے کے بارے میں سرکاری بیان سے انحراف کرنے والے صحافیوں کو 25 ہزار امریکی ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ پہلے اس کے تحت قید کی سزا تھی لیکن ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی مخالف کے بعد اسے جرمانے میں تبدیل کر دیا گيا۔
Image caption انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے السیسی اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو کچلنے کا کام کریں گے

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا استعمال مخالفت کو کچلنے، مخالفت کرنے والوں کو جیل میں ڈالنے اور اظہار رائے کی آزادی پر مزید قدغن لگانے کے لیے کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ملک کے سینا کے علاقے میں مصر کے سینکڑوں سکیورٹی فورسز کو جنگجوؤں کے حملے میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔

سنہ 2013 میں سابق صدر مرسی کی حکومت کے خلاف زبردست مظاہرے اور ان کی برطرفی کے بعد مصر میں بغاوت میں اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت السیسی فوج کے سربراہ تھے۔

اس بغاوت میں پیش پیش جماعت جو اب سینا صوبے کے نام سے معروف ہے پہلے انصار البیت القدس کہلاتی تھی اور اس نے نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا ہے۔

مسٹر السیسی نے اسلام پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جس میں ہزاروں کو جیل میں ڈالا گیا ہے اور سینکڑوں کو سزائے موت ملی ہے جس میں مسٹر مرسی بھی شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مرسی کی پارٹی اخوان المسلمون دہشت گرد تنظیم ہے جبکہ اس جماعت کا کہنا ہے کہ وہ پرامن سرگرمیاں جاری رکھنے کے پابند ہیں۔

فروری میں السیسی نے ایک اور انسداد دہشت گردی کا قانون منظور کیا تھا جس کے تحت حکام کو قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے اور عوام میں بدامنی پھیلانے کے جرم میں کسی بھی گروپ کے خلاف بے پناہ اختیارات دے دیے گئے تھے۔

اسی بارے میں