آسٹریلوی پارلیمان میں ہم جنس شادی کا بل پیش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وارن اینش نے ایک پرزور تقریر کے ساتھ ہم جنسوں کے درمیان شادی کا متنازع بل پیش کیا

آسٹریلیا کی پارلیمان میں ہم جنس پرستوں کی شادی کا ایک متنازع بل پیش کیا گیا ہے جس کی منظوری کے بعد ہم جنسوں کے درمیان شادی کو قانونی جواز حاصل ہو جائے گا۔

یہ بل اراکین پارلیمان کے درمیان قانون میں تبدیلی پر زبردست بحث کے بعد پیش کیا گیا ہے۔ اراکین اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ آیا اسے پارلیمان میں تبدیل کیا جائے یا پھر اس پر رائے شماری کرائی جائے۔

اس بل کے تحت ’دو شخص کسی بھی جنس، جنسی رجحان، جنسی شناخت یا بین جنس حیثیت کے تحت آپس میں شادی کر سکتے ہیں۔‘

آسٹریلیا میں شادی کے قانون میں حد مقرر کی گئی ہے اور یہ ایک مرد اور عورت کے درمیان ہی ہو سکتی ہے۔

اس بل کی تجویز حکومت میں پیچھے بیٹھنے والوں میں سے ایک وارن اینش نے دی جو وزیر اعظم ٹونی ایبوٹ کو بل کے حق میں ووٹ دے کر شکست دینا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption حالیہ برسوں میں کئی جگہ ہم جنسوں کے درمیان شادی کو قانونی حیثیت حاصل ہوئی ہے

حکومت کا کہنا ہے کہ شادی صرف عورت اور مرد کے درمیان ہی ہونی چاہیے اور انھوں نے اس امر پر حکومت میں شامل اراکین پارلیمان کی رائے نہیں لی ہے۔

اس کے برعکس انھوں نے کہا ہے کہ آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کے بعد اسے عوام کے سامنے استصواب رائے کے لیے پیش کیا جائے گا جس کا تسلیم کیا جانا لازمی نہیں ہوگا۔

دریں اثنا مختلف پارٹیوں کے سینیٹروں نے آسٹریلین گرینز کے ایک بل کی حمایت کی ہے جس میں انتخابات سے قبل ہی ہم جنس پرستوں کے درمیان شادی پر استصواب رائے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹونی ایبوٹ ایک مرد اور عورت کے درمیان ہی شادی کے حق میں ہیں

ایک جذباتی تقریر کے دوران مسٹر اینش نے کہا کہ کس طرح ان کے اس بل کو مختلف پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے اور یہ کس طرح آسٹریلیا کے زیادہ سے زیادہ باشندے کو شامل کرنے کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

کوئنزلینڈ سے رکن پارلیمان نے کہا: ’ہم جنس پرست ہونا طرز زندگی کا انتخاب نہیں ہے۔ یہ بل شادی کے لیے مختلف درجات نہیں بناتی۔‘

انھوں نے کہا ’اگر ہم شادی کے معاملے میں جنس کی بنیاد پر امتیاز برتتے رہیں گے تو اس سے ملک تقسیم ہوگا۔‘

اسی بارے میں