انڈونیشیا طیارہ حادثہ: امدادی ٹیمیں پاپوا روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جہاز نے سیتانی ایئر پورٹ سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2:21 پر پرواز کی اور 2:55 پر اس سے رابطہ ٹوٹ گیا

انڈونیشیا کی سرچ اور ریسکیو ٹیمیں مغربی پاپوا کے دور دراز علاقے کے لیے روانہ ہو گئی ہیں جہاں اتوار کو انڈونیشیا کا طیارہ مبینہ طور پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

انڈونیشیا میں حکام کے مطابق پاپوا کے علاقے میں لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کا ملبا دیکھاگیا ہے۔

انڈونیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ طیارے کا ملبا بنٹانگ کے علاقے میں ملا ہے تاہم ابھی تک کسی کے بچنے کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

یہ ملبا مقامی افراد نے تلاش کیا جنھوں نے حکام کو اس بارے میں آگاہ کیا۔

تریگانا ایئر کے اے ٹی آر جہاز پر عملے سمیت 54 افراد سوار تھے جن میں 44 بالغ، پانچ بچے اور عملے کے پانچ ارکان شامل تھے۔

انڈونیشیا کے پوسٹل آفس نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارے پر چار تھیلوں میں پاپوا کے ایک دور دراز کےگاؤں کے لیے 65 کروڑ روپے یعنی تقریباً پونے پانچ لاکھ امریکی ڈالر لے جائے جا رہے تھے۔

جیاپورا پوسٹ آفس کے سربراہ ہاریونو نے بتایا: ’ہمارے ساتھی وہ تھیلے لے جا رہے تھے جسے براہ راست غریبوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔‘

جہاز کا رابطہ سیتانی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے بعد گرینچ کے میعاری وقت کے مطابق چھ بجے منقطع ہو گیا۔

حکام کے مطابق ہوائی جہاز کی منزل پاپوا کا جنوبی شہر اوکسیبل تھا۔

تلاش کرنے والے ایک دوسرے طیارے سے بھی لاپتہ طیارے کا ملبا دیکھا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حادثے کا شکار طیارے پر سوار مسافروں کے لواحقین اپنے پیاروں کے بارے میں جاننے کے لیے بے قرار ہیں

انڈونیشیا کی قومی سرچ اور امدادی ایجنسی کے سربراہ بامبانگ سوئلسٹو نے بتایا کہ ملبے سے ’اس وقت بھی دھواں اٹھ رہا تھا۔‘ انھوں نے بتایا کہ خراب موسم اور مشکل راستوں کی وجہ سے وہاں پہنچنے میں دقت کا سامنا ہے۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ویڈوڈو نے ٹوئٹر پر تعزیت کی ہے اور حادثے کا شکار ہونے والوں کے لیے ’اجتماعی دعا‘ کی درخواست کی ہے۔

جہاز نے سیتانی ایئر پورٹ سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر 21 منٹ پر پرواز کی اور دو بج کر 55 منٹ پر اس سے رابطہ ٹوٹ گیا۔

وزارتِ ٹرانسپورٹ کے ترجمان جولیس برتا نے کہا تھا کہ طیارہ پہاڑی علاقے میں لاپتہ ہوا اور اس وقت وہاں اندھیرا تھا اور موسم خراب تھا جس کی وجہ سے تلاش کی کارروائیاں شروع کرنا ممکن نہیں۔

شہری ہوائی بازی سے متعلق حفاظتی نیٹ ورک کے مطابق تریگانا ایئر نے سنہ 1991 میں اپنی سروس شروع کی تھی اور اب تک 14 حادثات کا شکار ہو چکی ہیں اور اس کے دس ہوائی جہاز تباہ ہو چکے ہیں۔

خراب حفاظتی ریکارڈ کی وجہ سے یورپی یونین نے اس پر سنہ 2007 سے پابندی عائد کر رکھی ہے۔

انڈونیشیا میں ایئر لائنز کا ریکارڈ بہت خراب ہے اور وہاں ہوائی حادثے معمول کی بات ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں ایئر ایشیا کا ایک ہوائی جہاز گرنے کے نتیجے میں 192 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ رواں سال جولائی میں سماٹرا میں فوج کے ایک ہوائی جہاز کے حادثے میں 140 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں