’سقوطِ موصل‘ کے لیے نوری المالکی پر مقدمے کی توثیق

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نوری المالکی کے مخالفین ان پر ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کا الزام لگاتے رہے ہیں

عراقی پارلیمان نےسقوطِ موصل پر ایک رپورٹ میں سابق وزیراعظم نوری المالکی پر مقدمہ چلانے کی سفارش کی توثیق کرتے ہوئے اسے پراسیكيوٹر جنرل کے پاس بھیج دیا ہے۔

لیکن اس رپورٹ کے بارے میں اختلافِ رائے بھی پایا جاتا ہے۔

سقوطِ موصل کے واقعے کی تفتیش کرنے والے کمیٹی کے بعض ارکان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں شامل سفارشات پر کوئی رائے شماری نہیں کرائی گئی۔

عراقی پارلیمان کے سپیکر سلیم الجبوری نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا کہ پارلیمان نے سقوط موصل کے بارے میں رپورٹ کو تمام شواہد اور حقائق کے ساتھ عدلیہ کو بھجوانے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

سپیکر سلیم الجبوری نے کہا کہ اس میں رپورٹ میں شامل کوئی نام حذف نہیں کیا گیا اور تمام نام عدالیہ کو بھیج دیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس پر مزید تحقیق کی جائے گی اور جو لوگ بھی سقوط موصل کے ذمہ دار تھے انھیں جوابدہ بنایا جائے گا۔

سابق وزیر اعظم اور موجودہ نائب صدر نوری المالکی اس رپورٹ میں سقوط موصل کا ذمہ دار ٹھہرائے جانے والے افراد میں سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔

دوسری جانب تفتیشی کمیٹی کے رکن حنین قادو اور امر الشبلی نے کہا ہے کہ رپورٹ کی سفارشات پر کوئی رائے شماری نہیں کرائی گئی۔

حنین قادو کا تعلق سبک اقلیت سے ہے۔ ان کہنا تھا کہ رپورٹ کو پارلیمان میں بھی پڑھ کر نہیں سنایا گیا کیونکہ اس کی سفارشات پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

نوری المالکی کی جماعت کے رکن شبلی کا کہنا تھا کہ تحقیق کرنے والی کمیٹی غیر جانبدار نہیں تھی۔ اس رپورٹ میں مالکی کے علاوہ موصل کے سابق گورنر اثيل النجيفي سمیت 30 سے زیادہ دیگر حکومتی اہلکاروں پر بھی یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ان کی وجہ سے ہی دولتِ اسلامیہ موصل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ برس موصل کے علاوہ عراق کے مغربی اور شمالی علاقے میں کئی شہروں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

Image caption شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ برس موصل کے علاوہ عراق کے مغربی اور شمالی علاقے میں کئی شہروں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا تھا

سابق وزیراعظم پر مقدمے کی یہ سفارش ایک ایسے موقعے پر کی گئی ہے جب ملک کے وزیراعظم حیدر العبادی نے فوجی کمانڈروں کے کورٹ مارشل کے لیے راستہ صاف کر دیا ہے۔

یہ وہ کمانڈر ہیں جو رواں برس مئی میں رمادی اور دوسرے شہروں پر دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے حملوں کے دوران اپنی چوکیاں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔

رپورٹ میں نوری المالکی کے علاوہ جن اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ان میں سابق قائم مقام وزیرِ دفاع سعدون الدليمي، فوج کے سابق سربراہ بابكر زيباري، صوبہ نینوا کے فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مہدی الغراوی، نینوا کے پولیس کمانڈر میجر جنرل خالد ہمدانی اور سابق نائب وزیرِ داخلہ عدنان الاسدی بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں