بینکاک بم دھماکے میں کم ازکم 19 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ سڑکوں پر جلی ہوئی موٹر سائیکلیں بکھری پڑی ہیں

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں ایک مندر کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19 ہو گئی ہے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

حکام کو جائے حادثہ کے قریب سے ایک اور بم بھی ملا ہے جسے ناکارہ بنا دیا ہے۔

یہ دھماکہ ضلع چڈلام میں واقع ایراون مندر کے قریب مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے ہوا۔ تاہم ابھی تک کسی جانب سے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

نیشنل پولیس چیف نے اپنے بیان میں دھماکے میں 10 مقامی افراد سمیت ایک چینی اور ایک فلپائینی شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ دھماکہ ضلع چڈلام میں واقع ایراون مندر کے قریب مقامی وقت کے مطابق سات بجے ہوا

دی نیشن ٹی وی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 27 ہو گئی ہے جن میں کم از کم تین غیر ملکی بھی شامل ہیں، تاہم سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تھائی لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مندر سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس دھماکے کا ہدف غیر ملکی سیاح ہوں۔

وزیر دفاع پراوت وونگ سووونگ کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ٹی این ٹی بم تھا۔ جن لوگوں نے یہ کیا ہے ان کا مقصد غیر ملکیوں کو نشانہ بنانا تھا، اور سیاحت اور معیشت کو نقصان پہنچانا تھا۔‘

نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق بینکاک کے مرکز میں فائیو سٹار ہوٹل کے قریب واقع یہ مندر بہت مشہور ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مندر کے اردگرد موجود لوگ اس دھماکے کی زد میں آئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ سڑکوں پر جلی ہوئی موٹر سائیکلیں پڑی ہوئی ہیں، پولیس اور امدادی ٹیمیں زخمیوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ویلز سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح جوش ہینسن نے بتایا کہ وہ دھماکے کے وقت مندر سے 300 میٹر دور اپنے کزن کی سالگرہ منا رہے تھے۔

’زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کے لیےدکانیں جلد بند کر دی گئیں اور ٹریفک روک دی گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ کی انتظامیہ نے اس صورتحال سے بہترین طریقے سے نمٹنے کی کوشش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ کرنے والے کا مقصد بڑی تعداد میں لوگوں کو ہلاک کرنا تھا

واضح رہے کہ یہ مندر ہندوؤں کے دیوتا براہما کا ہے لیکن ہر روز یہاں ہزاروں کی تعداد میں بدھ مت کے ماننے والے بھی آتے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق پولیس کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل پراووٹ یتھاورنشری نے تصدیق کی ہے کہ ’یہ بم تھا لیکن ابھی ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ کس قسم کا بم تھا۔ ہم معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ بینکاک میں اس طرح کے دھماکے انتہائی غیر معمولی بات ہے۔

یہاں مسلم بغاوت ہے لیکن وہ ملک کے جنوبی حصے میں ہی محدود ہے اور اس طرح کے حملے کبھی کبھار ہی کسی دوسرے علاقے میں ہوتے ہیں۔

گذشتہ سال مئی میں فوج نے منتخب حکومت کو کئی ماہ کی بد امنی کے بعد ہٹا کر ملک کی باگ ڈور سنبھال لی تھی۔

اسی بارے میں