مشرقی یوکرین میں شیلنگ سے نو ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کیئف میں حکام کا کہنا ہے کہ میری پول کے نواحی گاؤں میں باغیوں نے شدید فائرنگ کی

مشرقی یوکرین میں حکومتی فوج اور روس نواز باغیوں کے درمیان بھاری توپ خانے سے ہونے والی شیلنگ کے نتیجے میں کم ازکم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

’فوج روسی حملے کے لیے تیار رہے‘

روس کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ یوکرین دوبارہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم کیئف کی جانب اس الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ باغیوں کی جانب سے شیلنگ کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کرائمیا کا دورہ کر رہے ہیں۔

اپنے بیان میں صدر پوتن نے کہا ہے کہ لسانی گروہوں کے لیے خصوصی جگہ کا حصول خطرناک ہو گا۔ انھوں نے تاتاریوں کی جانب

اشارہ کیا جو کرائمیا کی آبادی کا 10 فیصد ہیں اور انھی کی جانب سے کرائمیا پر روس کے قبضے کی سب سے زیادہ مذمت کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فروری میں ہونے والے سیز فائر کو حالیہ صورتحال نے مزید کمزور کر دیا ہے

روسی صدر نے یہ بھی الزام لگایا کہ یوکرین کی حکومت بیرونی کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم حکومتی عہدوں پر غیر ملکی افراد موجود ہیں۔

جارجیا کے سابق صدر میخائل ساکاشویلی اوڈیسا کے گورنر ہیں جبکہ حکومت میں شامل تین اور وزیر بھی غیر ملکی ہیں۔

یوکرین کے صدر نے روسی ہم منصب کے دورے کو مہذب دنیا کے لیے ایک چیلنج قرار دیا ہے۔

فروری میں ہونے والے سیز فائر کو حالیہ صورتحال نے مزید کمزور کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ شہری اور دو سپاہی شامل ہیں۔

نیٹو، مغربی ممالک اور کیئف کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ روسی دستے علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور ہتھیار فراہم کرتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب ماسکو ان دعوؤں کی تردید کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ شہری شامل ہیں

کیئف میں حکام کا کہنا ہے کہ میری پول کے نواحی گاؤں میں باغیوں نے شدید فائرنگ کی۔

ان کا کہنا ہے کہ دو یوکرینی فوجی اور دو شہری باغیوں کی شیلنگ سے ہلاک ہوئے۔

ادھر روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کیئف پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شدید لڑائی کی زد میں آنے والے میری پول کے مشرقی گاؤں شیروکینا کو ہتھیاروں سے پاک نہیں کر رہا۔

خیال رہے کہ فرانس جرمنی اور روس کے تعاون سے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہونے والے معاہدے کے تحت یوکرین اور روس نے علاقے سے ہتھیاروں کا انخلا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

دونیتسک پیپلز رپبلک کے مطابق حکومت کی آرٹلری نے دونیتسک کے نواح میں شیلنگ کی جس سے دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اس کے مشرق میں واقع ہورلوکا شہر میں تین شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی عہدے دار سسیل پوئلو نے کہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں اپریل کے 2014 میں شروع ہونے والی لڑائی سے اب تک 7000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا تھا کہ اس لڑائی میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 17 ہزار سے زائد ہے۔

اسی بارے میں