انڈونیشیا میں تباہ شدہ طیارے سے تمام 54 لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امدادی ٹیم نے اس علاقے کی تصویر لی ہے جہاں اتوار کو طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا

انڈونیشیا کی امدادی ٹیموں نے اتوار کو پاپوا کے علاقے میں حادثے کا شکار ہونے والے تریگانا ایئر طیارے پر سوار تمام 54 افراد کی لاشیں برآمد کر لی ہیں۔

انڈونیشیا کی سرچ اور ریسکیو ٹیم کے سربراہ بمبانگ سوئلیسٹیو نے بتایا ہے کہ ان کی ٹیم نے طیارے کو مکمل طور پر تباہ اور جزوی طور پر جلی ہوئی حالت میں پایا۔

انھوں نے بتایا کہ پرواز کا ڈیٹا ریکارڈ کرنے والا آلہ بلیک باکس بھی مل گیا ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کو یہ طیارہ اپنی منزل اوکسیبل کے قریب گھنے جنگلوں اور پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔

تریگانا ایئر کے اے ٹی آر جہاز پر عملے سمیت 54 افراد سوار تھے جن میں 44 بالغ، پانچ بچے اور عملے کے پانچ ارکان شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امدادی ٹیم میں تقریبا 100 پولیس، فوجی اور عام افراد شامل تھے اور یہ ٹیم منگل کی صبح جائے حادثہ پر پہنچی

انڈونیشیا کے پوسٹل آفس نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارے پر چار تھیلوں میں پاپوا کے ایک دور دراز کےگاؤں کے لیے تقریباً پونے پانچ لاکھ امریکی ڈالر یعنی 65 کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم لے جائی جا رہی تھی۔

جیاپورا پوسٹ آفس کے سربراہ ہاریونو نے بتایا: ’ہمارے ساتھی وہ تھیلے لے جا رہے تھے جنھیں براہ راست غریبوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔‘

جہاز کا رابطہ سیتانی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے بعد گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق چھ بجے منقطع ہو گیا۔

امدادی ٹیم میں تقریبا 100 پولیس، فوجی اور عام افراد شامل تھے اور یہ ٹیم منگل کی صبح جائے حادثہ پر پہنچی۔

سوئلسٹیو نے اخباری نمائندوں کو بتایا: ’طیارہ پوری طرح تباہ ہو چکا ہے اور تمام لاشیں ناقابل شناخت حالت میں جلی ہوئی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایئر لائنز کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے

لاشوں کے نکالنے کے کام میں خراب موسم اور دشوار گزار راستے مخل ہیں۔ لاشوں کو شناخت کے لیے صوبائی دارالحکومت لے جایا جائے گا۔

بلیک باکس سے حادثے کی وجوہات کا علم ہو سکے گا تاہم خراب موسم کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اتوار کو ایک تلاش کرنے والے طیارے کو خراب موسم کی وجہ سے واپس آنا پڑا تھا۔

ہوابازی کے سیفٹی نیٹ ورک کے مطابق تریگانا ایئر میں سنہ 1991 میں اپنی پرواز کے آغاز سے اب تک 14 بڑے حادثات ہو چکے ہیں جن میں سے 10 میں طیارہ پوری طرح تباہ ہو گیا تھا۔

اس کمپنی کا طیارہ سنہ 2007 سے یورپی یونین کی جانب سے پابندی لگائی جانے والی کمپنیوں کی بلیک لسٹ میں ہے جبکہ انڈونیشیا کی چاروں ایئرلائنز اس لسٹ میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انڈونیشیا کی ایئرلائنز کا ریکارڈ بہت خراب رہا ہے

انڈونیشیا میں ایئر لائنز کا ریکارڈ بہت خراب ہے اور وہاں ہوائی حادثے معمول کی بات ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں ایئر ایشیا کا ایک ہوائی جہاز گرنے کے نتیجے میں 192 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ رواں سال جولائی میں سماٹرا میں فوج کے ایک ہوائی جہاز کے حادثے میں 140 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں