اقوامِ متحدہ شام میں حملوں سے ’خوف زدہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوامِ متحدہ کے فلاحی امور کے سربراہ سٹیفن اوبرائن کا کہنا ہے کہ وہ شام میں شہریوں پر ہونے والے حملوں سے ’خوف زدہ‘ ہیں۔

سٹیفن اوبرائن نے دمشق میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی جنگ میں غیر مسلح افراد کو نشانہ بنانا غیر قانونی اور ناقابل برداشت ہے اور اسے بند کرنا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ شام میں حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق سرکاری فوج کے باغیوں کے زیر قبضہ شہر دوما‎ پر اتوار کو ہونے والے فضائی حملوں میں کم از کم 80 افراد ہلاک ہو ئے۔

سماجی کارکنان نے پیر کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 96 تک پہنچ چکی ہے۔

شام میں چار سال سے جاری لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم حالیہ حملے کو سب سے بدترین حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام میں جاری جنگ کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

ادھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں موجود سفیر سٹیفن ڈی مستوا کی جانب سے نئے امن مذاکرات کی پیشکش کی حمایت کی ہے۔

سٹیفن ڈی مستوا کی تجویز ہے کہ شام میں موجود مختلف جماعتیں ستمبر میں ورکنگ گروپس کی سطح پر مذاکرات کریں تاکہ سنہ 2012 میں عالمی طاقتوں کی جانب سے عبوری حکومت کے لیے دیے جانے والے روڈ میپ کی جانب قدم بڑھایا جا سکے۔

شام کے فوجی ذرائع کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا تھا کہ اتوار کی بمباری میں باغی گروہ، جیش الاسلام کو نشانہ بنایا گیا۔

ملک کے سرکاری ٹی وی پر یہ خبر نشر کی گئی کہ باغیوں نے حلب میں شیلنگ کی جس سے 10 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے۔

اقوام ِمتحدہ کی جانب سے سٹیفن اوبرائن جو کہ شام کے تین روزہ دورے پر وہاں موجود تھے نے دونوں فریقین سے کہا ہے کہ شہریوں کی حفاظت اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دوما میں فوج کی فضائی کارروائی کے بعد کا منظر

شام میں انسانی حقوق کا جائزہ لینے والی برطانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ اتوار کو دوما کی مارکیٹ میں شامی جیٹ طیاروں نے ریسکیو کے عملے کی آمد سے قبل کم ازکم 10 راکٹ داغے۔

سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مارکیٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور وہاں موجود گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ شام سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں شہریوں کے لیے ’سیف زون‘ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

تاہم سٹیفن اوبرائن کا کہنا ہے کہ اس قسم کے علاقے جو بھی ملک بنائے گا اسے لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری لینی ہوگی۔

گذشتہ ہفتے انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ شامی حکومت جنگی جرائم میں ملوث ہے۔ بتایا گیا تھا کہ دوما سمیت دمشق کے اردگرد کے دیہات میں موجود لاکھوں افراد کے خلاف جنگی جرائم ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں حکومتی فوج نے شام میں 60 فضائی حملے کیے جن میں تقریباً 500 شہری ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں