لبنان کے سیاسی نظام کی تباہی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لبنان میں ایک کے بعد ایک آنے والی حکومتوں نے ملک کی بہتری کے لیے لمبے عرصے کے منصوبے بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے عوام کو پرائیویٹ اور غیر سرکاری سروس فراہم کرنے والوں پر بھروسہ کرنا پڑا

لبنان کی وزارتِ توانائی نے سنہ 2010 میں ’لبنان آف‘ اور ’لبنان آن‘ کے نام سے ملک میں بجلی کی فراہمی کے لیے ایک پر کشش اور کامیاب میڈیا مہم شروع کی تھی۔

تاہم یہ مہم اپنے دعوے کو پورا کرنے میں ناکام رہی اور لبنان میں حالیہ دنوں میں بجلی کا مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔

لبنان میں صرف بحلی کا مسئلہ ہی نہیں جس کی وجہ سے پورا نظام ٹھپ ہو ہو جاتا ہے بلکہ وہاں اور بھی مسائل ہیں۔

لبنان میں بجلی کے تعطل کی حالیہ صورت کا تعلق کوڑا کرکٹ سے ہے۔

لبنان کے دارالحکومت میں قائم کوڑا کرکٹ رکھنے کی جگہ اپنی گنجائش سے زیادہ بھر جانے کے بعد بند ہو چکی ہے اور اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کوئی متبادل انتظام نہیں کیا گیا۔

اس صورتِ حال کے بعد لبنان کی سول سوسائٹی کی ایک تنظیم نے ملک کے سیاست دانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ’آپ سے بدبو آ رہی ہے‘ نامی ایک تحریک شروع کی۔

لیکن ان میں سے کوئی بھی مسئلہ نیا یا تعجب خیز نہیں ہے، بلکہ تمام نظام میں خرابی کا مظہر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لبنان کے دارالحکومت میں قائم کوڑا کرکٹ رکھنے کی جگہ اپنی گنجائش سے زیادہ بھر جانے کے بعد بند ہو چکی ہے اور اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کوئی متبادل انتظام نہیں کیا گیا

لبنان میں سنہ 1990 میں 15 برس کی خانہ جنگی کے بعد بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ملک کے حالات پہلے بھی خراب تھے اور یہی صورتِ حال بنیادی سہولیات کی تھی۔

مرکزی بیروت کے مقابلے میں جسے ایک پرائیوٹ سٹیٹ کمپنی کے سپرد کیا گیا وہاں بھی ملک کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے چند منصوبے نافذ کیے گئے۔

لبنان میں ایک کے بعد ایک آنے والی حکومتوں نے ملک کی بہتری کے لیے لمبے عرصے کے منصوبے بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے عوام کو پرائیویٹ اور غیر سرکاری سروس فراہم کرنے والوں پر بھروسہ کرنا پڑا۔

اس صورتِ حال کی وجہ سے لبنان میں ایک متوازی نظام ابھرا اور حکومت عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے آگے نہیں آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لبنان میں سنہ 1990 میں 15 برس کی خانہ جنگی کے بعد بنیادی ڈھانچے میں کسی سرمایہ کاری پر کوئی توجہ نہیں دی گئی

یہ صورتِ حال ملک کے روزہ مرہ مسائل کو چلانے کی سطح پر نااہلی تک محدود نہیں بلکہ دائمی مسائل ہیں۔

لبنان میں چند بنیادی حقائق ہی ملک کی خرابی کی سطح کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔

لبنان میں 450 سے زائد دنوں میں صدر کا کوئی وجود نہیں ہے۔ لبنان کی پارلیمان کا 27 واں اجلاس ملک کے صدر کو منتخب کرنے میں ناکام رہا ہے۔

لبنان میں شدید سیاسی بحران نے پارلیمان کے ارکان کو بھی تقسیم کر دیا ہے۔ یہ ارکان جو علاقے کے کسی نہ کسی کھلاڑی سے وابستہ ہیں، وہ صدر کے انتخاب پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔

ان ارکان نے اپنی اپنی باریوں میں توسیع کر کے ملک میں انتخابات کے مطالبے کو رد کر دیا ہے جس کی وجہ سے پارلیمان گذشتہ ایک سال سے مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

امریکی تھنک ٹینک کارنیگی سینٹر کے ایک دانشور ماریو ابو زید کا کہنا ہے کہ لبنان میں آزادی کے بعد سے موجودہ آئینی صورتِ حال عملی طور پر بد ترین ہے۔

لبنان میں جاری حالیہ بحران ملک کی دیگر اہم عہدوں تک بھی پہنچ رہا ہے۔

لبنان کے موجودہ کمانڈر انچیف عیسائی ہیں اور ان کی مدتِ ملازمت اگلے ماہ ستمبر میں ختم ہو رہی ہے۔ لبنان میں مستقبل کے کمانڈر انچیف کی تعیناتی کا اعلان بھی مہنیوں سے جاری تقسیم کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔

لبنان کے وزیرِ دفاع نے یک طرفہ طور پر ملک کے موجودہ کمانڈر انچیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا۔

لبنان کے بیشتر افراد میں بظاہر بدعنوانی اور سیاسی قیادت کی نا اہلی کو نظر انداز کرنے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں