تارکینِ وطن مقدونیہ میں داخلے کے لیے کوشاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکیورٹی فوسرز کی جانب سے لاٹھی چار کے نتیجے میں 10تارکینِ وطن زخمی ہوئے

یونان سے مقدونیہ کی سرحد پر پہچنے والے سینکڑوں پناہ گزینوں پر وہاں تعینات سکیورٹی فورسز نے لاٹھی چارج کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

جمعرات کو مقدونیہ کی حکومت نے تارکینِ وطن کے معاملے پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی کا اعلان بھی کیا تھا۔

خیال رہے کہ زیادہ تر تارکینِ وطن کا تعلق مشرقِ وسطیٰ سے ہے جو یورپی ممالک میں جانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ادھر اقوامِ متحدہ نے یونان اور مقدونیہ سے کہا ہے کہ وہ خراب ہوتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کریں۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران 44 ہزار افراد نے مقدونیہ کی جانب سفر کیا۔ انھیں سرحد پر تھوڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تاہم اب لوگوں کو روکنے کے لیے سرحد پر خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں۔

وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینولڈ نے بتایا ہے کہ جمعے کی دوپہر سینکڑوں تارکینِ وطن کو سرحدی فوج کی طرف سے روکا گیا۔

امدادی ادارے ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے 10 افراد کی مرہم پٹی کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پولیس نے 181 افراد کو عارضی طور پر داخلے کی دستاویزات دی ہیں۔

ادھر ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی یورپ میں ڈپٹی ڈائریکٹر گاری وان گولک کا کہنا ہےکہ مقدونیہتارکینِ وطن کے ساتھ ایسے نمٹ رہی ہے جیسے کہ وہ مہاجرین کے بجائے فساد کرنے والے لوگ ہیں اور تصادم کرنا چاہتے ہیں۔

میسی ڈونا کی وزارتِ داخلہ نے جمعے کو ہی اپنے بیان میں بتایا کہ وہ کمزور غیر قانونی تارکینِ وطن کی محدود تعداد کو اپنے ملک میں داخل ہونے دیں گے۔ اور انھیں ریاست اپنی استعداد کے مطابق امداد فراہم کرے گی۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پولیس نے 181 افراد کو عارضی طور پر داخلے کی دستاویزات دی ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انھوں نے بعد میں دیکھا کہ چند خاندانوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت مل گئی۔ جس کے نتیجے میں ان کے چہروں پر مسکراہٹ تھی اور وہ ریلوے سٹیشن کی جانب بڑھ رہے تھے تاکہ سربیا، ہنگری اور یورپ کے دیگر ممالک میں پہنچ سکیں۔

مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے جمعے کو دیے گیے بیان میں یونان کے سرحدی علاقے میں موجود غیر محفوظ تارکینِ وطن کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

بہت سے ایسے حاندان بھی تھے جنہیں آگے جانے کی اجازت نہیں ملی۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ انھیں مقدونیہ کے حکام نے یقین دہانی کروائی تھی کہ سرحد کو بند نہیں کیا جائے گا۔ مگر اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاکھوں افراد نے پناہ کی تلاش میں مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا

یونان کے ساحلوں پر رواں سال جنوری سے ایک لاکھ 60 ہزار تارکینِ وطن موجود ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق وہاں صرف گذشتہ ایک ماہ کے دوران 50 ہزار تارکینِ وطن آئے۔

وہاں موجود جرمن صحافی بِلڈ پال کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود دیکھا کہ یونان کے بارڈر سکیورٹی اہلکار شام سے آنے والے تارکینِ وطن کو مقدونیہ میں داخل ہونے کا طریقہ بتاتے ہیں۔

جب انھوں نے گارڈ سے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ’ ہم اس صورتحال سے نمٹ نہیں سکتے، اس وقت یونان میں لاکھوں مہاجرین ہیں اور ہم انھیں وہاں سے باہر نکالنا چاہتے ہیں، وہ یونان میں نہیں رہنا چاہتے وہ جرمنی جانا چاہتے ہیں۔‘

یہاں افریقہ اور ایشیا نے آنے والے مہاجرین بھی شامل تھے تاہم زیادہ تر تعداد شامی پنا گزینوں کی تھی۔