سعودی بمباری سے 65 یمنی شہری ہلاک: ایم ایس ایف

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یمن جنگ میں تقریباً 4000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

یمن کے شہر تعز میں سعودی عرب اور اس کی اتحادی افواج کی جانب سے کی جانے والی فضائی بمباری میں 65 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

سعودی بمباری ناقابلِ قبول

یمن میں اقوامِ متحدہ کا پہلا امدادی جہاز کب پہنچا؟

امدادی ادارے میڈیسنز ساں فرنٹیئرز ایم ایس ایف کی جانب سے بتایا گیا کہ جمعرات کو تعز میں ہونے والے حملے کے ہلاک شدگان میں نصف سے زائد عوتیں اور بچے شامل تھیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے پانچ ماہ قبل یمن میں موجود حوثی باغیوں کے خلاف اپنے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ تاہم اس وقت وہاں باغیوں کے علاوہ لاکھوں افراد محصور ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ تعز حوثی باغیوں اور حکومت کی حامی فوج جسے سعودی عرب کی مدد حاصل ہے کے درمیان شدید جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔

حوثی باغی یمن کے بہت سے علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں جبکہ ملک کے صدر منصور ہادی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں قحط کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے

اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 4000 کے قریب پہنچ چکی ہے جن میں نصف تعداد عام شہریوں کی ہے۔

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ شب دیر گئے تعز میں ہونے والے اس فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 17 افراد ہلاک ہوئے۔

ادارے کی جانب سے جاری بیان میں متحارب گروہوں سے کہا گیا ہے کہ وہ شہری آبادیوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنانا بند کریں۔

یمن میں لڑنے والے حوثی باغیوں کو سابق صدر عبداللہ صالح کے حامی اور موجودہ حکومت اور اس کی پالیسیوں کے مخالف ہیں۔

ادھر سعودی عرب کا الزام ہے کہ شیعہ ملک ایران حوثی باغیوں کی حمایت کر رہا ہے لیکن تہران اور حوثی باغی ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔

اسی بارے میں