فرانس کی ٹرین میں حملہ کرنے والے مشتبہ شخص سے تفتیش جاری

تھیلس ٹرین تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تھیلس ٹرین بیلجیئم کے شہر ایمسٹرڈیم سے فرانس کے دارالحکومت پیرس آ رہی تھی

فرانس کی پولیس جمعے کو ایمسٹرڈیم اور پیرس کے درمیان چلنے والی ٹرین پر مبینہ طور پر حملے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے 25 سالہ مراکش کے شہری ایوب ال خازانی سے تفتیش کر رہی ہے۔

مشتبہ شخص کے، جسے مسافروں نے پکڑ کر فرش پر جکڑ لیا تھا، شدت پسند اسلامی تحریک سے روابط بتائے جاتے ہیں۔

انھیں بغیر کسی الزام کے چار دن تک زیرِ حراست رکھا جا سکتا ہے۔

تھیلس ٹرین پر سکیورٹی کے انتظامات اب مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی ٹرین سٹیشنوں پر بھی سکیورٹی بڑھائی جا رہی ہے اور سامان کی مزید جانچ پڑتال کی جائے گی۔

مشتبہ شخص تھیلس ٹرین پر بیلجیئم سے سوار ہوا تھا اور بیلجیئم کے پراسیکیوٹر اپنے طور پر اس واقع کے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مبینہ حملہ آور کو مسافروں نے ٹرین پر ہی قابو کر لیا تھا

سپین کے حکام نے مشتبہ شخص کے متعلق فرانسیسی حکام کو 2014 میں آگاہ کیا تھا۔

اطلاعات کے متعلق وہ فرانس، سپین اور بیلجیئم میں رہ چکا ہے اور شام کا بھی سفر کر چکا ہے۔

یہ واقع فرانس کے شمالی شہر آراس کے نزدیک جمعہ کو پیش آیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق جب ایک فرانسیسی شہری ٹرین کے واش روم میں داخل ہونے لگا تو اس کا سامنا ایک بندوق بردار سے ہوا اور اس نے اسے قابو کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران گولی چلی جس سے فرانسیسی مسافر زخمی ہو گیا۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ بندوق بردار کے پاس ایک کلاشنکوف، ایک خودکار پستول اور چاقو تھا۔

دو امریکی فوجیوں، سپینسر سٹون اور ایلک سکارلاتوس نے بندوق بردار کو ٹرین کے ڈبے کے فرش پر گرا دیا اور اس سے اسلحہ چھین کر قابو کر لیا۔ دوسرے مسافروں نے بھی ان کی مدد کی جن میں ایک برطانوی شہری بھی شامل تھا۔

جن لوگوں نے مسلح حملے آور کو روکا وہ پیر کو فرانسیسی صدر فرانسواں اولاند سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں