ملائیشیا میں مزید اجتماعی قبریں دریافت

Image caption اس سے قبل مئی کے مہینے میں 17 اجتما‏عی قبریں ملی تھیں جن میں 100 سے زیادہ لاشیں تھیں

ملائیشیا کی پولیس نے کہا ہے کہ انھیں تھائی لینڈ کی سرحد سے ملحقہ علاقے میں مزید اجتماعی قبریں ملی ہیں۔

ایسا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان قبروں میں پائی جانے والی لاشیں انسانی سمگلنگ کا شکار لوگوں کی ہیں۔

یہ قبریں تھائی لینڈ اور ملائشیا کی سرحد پر بکتی وانگ کے مقام پر ملی ہیں جن سے 24 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔

اس سے قبل مئی کے مہینے میں 17 اجتما‏عی قبریں ملی تھیں جن میں 100 سے زیادہ لاشیں تھیں۔

خیال رہے کہ انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے اس علاقے اور ان راستوں کا استعمال بنگلہ دیش اور میانمار (برما) کے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے لاکر سرحد عبور کرانے کے لیے کرتے رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد لاشوں کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔

یہ جگہ اس مقام کے نزدیک ہے جہاں غیر قانونی طور پر چلنے والے ڈیٹنشن کیمپ میں بند سینکڑوں تارکین وطن کی لاشیں رواں سال مئی کے مہینے میں ملی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تھائی لینڈ کے انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک دوسرے سمگلروں سے تارکینِ وطن سے بھری پوری کی پوری کشیاں خرید کر انھیں اس وقت تک جنگلوں میں چھپائے رکھتے تھے جب تک ان کے خاندان تاوان ادا نہیں کرتے

تھائی لینڈ نے انسانوں کی سمگلنگ کے خلاف پرزور مہم چلائی تھی کیونکہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ غیر قانونی طور پر تھائی لینڈ کے راستے ملائیشیا پہنچتے ہیں۔

تھائی لینڈ کے اس راستے سے بھی بہت قبریں ملیں تھیں جہاں سے انسانی سمگلر میانمار یعنی برما سے جانیں بچا کر بھاگنے والے روہنجیا مسلمانوں کو لے کر جاتے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کی خصوصی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تھائی لینڈ کی پوری کی پوری برادریاں سمگلروں کی مدد کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ کے انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک دوسرے سمگلروں سے تارکینِ وطن سے بھری پوری کی پوری کشیاں خرید کر انھیں اس وقت تک جنگلوں میں چھپائے رکھتے تھے جب تک ان کے خاندان تاوان ادا نہیں کرتے۔

خیال ہے کہ ہجرت کرنے والے کئی لوگ یہاں بیماریوں اور بھوک سے ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں