لبنان میں حکومت مخالف مظاہرہ ملتوی کر دیا گیا

Image caption پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے درجنوں افراد زخمی ہو گئے

لبنان کی سڑکوں پر موجود کوڑا کرکٹ نہ ہٹانے پر حکومت مخالف کیے جانے والے مظاہرہ ملتوی کر دیا گیا ہے، تاہم ’یو سٹنک‘ (تم سے بُو آتی ہے) نامی اس مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ختم کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم تمام صائب سلام نے اتوار کو بیروت میں ہزاروں کی تعداد میں موجود مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین سے پرسکون رہنے کی درخواست دی اور ساتھ میں اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کی دھمکی بھی دی تھی۔

پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا جس سے درجنوں افراد زخمی ہو گئے تھے۔

لبنان کا کوئی صدر نہیں ہے اور پارلیمان بھی تعطل کا شکار ہے۔

سُنی اور شیعہ پارٹیوں کے اشتراک سے بننے والی وزیراعظم سلام کی حکومت پر پڑوسی ملک شام میں جاری فسادات کے باعث فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے اور ملک کی جڑیں کاٹنے کا بھی الزام عائد کیا جاتا ہے۔

بدامنی میں اضافہ ملک کی سب سے بڑی کوڑا کرکٹ اُٹھانے کی جگہ کے گذشتہ ماہ بند ہونے اور بیروت کی سڑکوں سے کوڑا کرکٹ نہ اُٹھا پانے کی حکومتی ناکامی کے باعث ہوا۔

مظاہرین نے بحران حل کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار سیاسی غفلت اور بدعنوانی کو ٹھہرایا۔

Image caption وزیراعظم تیمام سلام نے بیروت میں ہزاروں کی تعداد میں موجود مظاہرین کو اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کی دھمکی دی ہے

اتوار کو مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور ڈنڈے برسائے اور جلاؤ گھیراؤ بھی کیا۔

39 سالہ ایک کارکن ثمر عبداللہ نے روئٹرز کو بتایا کہ ’لوگ چلے گئے کیوں کہ اُن کے پاس نہ طاقت ہے اور نہ ہی بجلی۔ انھیں ہزاروں مسائل کا سامنا ہے لیکن کوڑے کرکٹ کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔‘

وزیراعظم سلام نے ٹیلی ویژن پر ایک خطاب میں کہا کہ ’میں خبردار کر رہا ہوں کہ اگر یہ معاملہ جاری رہا تو ہم حکومت کے خاتمے کی طرف چلے جائیں گے۔ سچ کہوں تو میں اس تصادم کا ذمہ دار نہ ہوں اور نہ ہی ہوں گا۔ تمام سرکاری حکام اور سیاسی قوتوں کو اپنی ذمہ داریاں قبول کرنی چاہییں۔‘

اگر وزیراعظم سلام مستعفی ہوں گے تو آئینی بحران میں مزید اضافہ ہو جائے گا کیونکہ لبنان میں میں وزیراعظم کو صدر مملکت کی جانب سے مقرر کیا جاتا ہے، لیکن صدر کی کرسی ایک سال سے زائد عرصے سےخالی ہے۔

صدر کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے لیے ایک معاہدے کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر افراد کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صرف ایران اور سعودی عرب ہی ختم کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مظاہرین نے بحران حل کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار سیاسی غفلت اور بدعنوانی کو ٹھہرایا

سلام کا کہنا ہے کہ اگر کابینہ کا اجلاس رواں ہفتے کے اختتام تک مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہا تو لبنان کی حکومت بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دب جائےگی، اور امکان ہے کہ حکومت گرجائے گی۔

انھوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبی حکومت اگلے مہینے کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہو گی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ لبنانی حکومت کی عوامی قرضوں کی ادائیگی کے لیے بانڈ کی فروخت کے نتائج ملکی کریڈٹ ریٹنگ گرنے کی شکل میں بھی آ سکتے ہیں جس سے ’ناکام ریاستوں‘ کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں