ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کے لیے مزید رقم کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جوہری توانائی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اپنے رکن ممالک سے درخواست کی ہے کہ اسے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان گذشتہ ماہ طے پائے جانے والے معاہدے کی نگرانی کے لیے مزید رقم فراہم کی جائے۔

عالمی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل، یوکی امانو، کا کہنا ہے کہ ادارے کو اس مقصد کے لیے سالانہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر درکار ہوں گے۔

یوکی امانو نے خبردار کیا کہ ’آئی اے ای اے‘ کو ایران کے موجودہ جوہری پروگرام کی نگرانی کے لیے جو اضافی رقم فراہم کی گئی تھی وہ اگلے ماہ ختم ہو جائے گی۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان 14 جولائی کو طے پانی والی ’مشترکہ جامع حکمت عملی‘ کے تحت عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کار ایران کی ان تنصیبات کی نگرانی کرتے رہیں گے جن کا اعتراف ایران کر چکا ہے اور وہ اس بات پر بھی نظر رکھیں گے کہ ایران بم بنانے کی غرض سے کوئی بھی جوہری مواد کسی خفیہ مقام پر منتقل نہیں کر رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران عالمی ادارے کے ماہرین کو کسی بھی ایسے مقام تک رسائی فراہم کرے گا جس کے بارے میں ادارے کو شکوک ہوں۔

معاہدے میں ایران اس بات پر بھی اتفاق کر چکا ہے کہ وہ عالمی ادارے کے ماہرین کو کسی بھی ایسے مقام تک رسائی فراہم کرے گا جس کے بارے میں ادارے کو شکوک ہوں۔

منگل کو ویانا میں عالمی جوہری ادارے کے گورنروں کے اجلاس میں مسٹر امانو نے بتایا کہ ایران کی جوہری کارروائیوں کی نگرانی کے لیے ان کے ادارے کو اس وقت نو لاکھ 16 ہزار ڈالر ماہانہ دیے جا رہے ہیں۔ مسٹر امانو کا کہنا تھا کہ ابھی تک ادارہ اپنے اخراجات اس اضافی رقم سے چلا رہا تھا جو رکن ممالک نے دی تھی، لیکن یہ رقم ستمبر کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔

مسٹر امانو کا مزید کہنا تھا کہ مشترکہ جامع حکمت عملی کے اطلاق تک ادارے کو ایک لاکھ 60 ہزار یورو ماہانہ کی اضافی رقم درکار ہوگی اور اس کے بعد کے 15 برسوں میں اسے سالانہ 92 لاکھ یورو درکار ہوں گے۔

مسٹر امانو کی اس درخواست کے بعد امریکہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ’ایران کی جوہری ذمہ داریوں کی تصدیق کرنے کے لیے عالمی ادارے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ کام کرنے پر پوری طرح کاربند ہے۔‘

منگل کے اجلاس میں مسٹر امانو نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ فوجی پہلوؤں کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے کے لیے عالمی ادارے نے ایران کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے وہ تکنیکی لحاظ سے مضبوط ہے اور اس میں ادارے کے قائم کردہ معیار پر پورا اترا جائے گا۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی پر یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ اس نے ایران کے ساتھ طے پائے جانے والے ’روڈ میپ‘ کو خفیہ نہیں رکھا بلکہ اسے عام کر دیا ہے۔