سیاسی صداقت کتنی تبدیلی لا سکتی ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ خود اتنے دولت مند ہیں کہ انھیں کوئی نہیں خرید سکتا

امریکی صدارت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ کی لیبر پارٹی کے امیدوار جیریمی کوربن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چاہے آپ دائیں بازو سے آئیں یا بائیں بازو سے، صرف صداقت ہی حمایت حاصل کر سکتی ہے۔

لیکن کیا اس بات کی کوئی حد ہے کہ صداقت کسی سیاست دان کو کہاں تک لے کر جا سکتی ہے؟

اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ایسے بیانات دیے ہیں جنھیں مرکزی دھارے میں شامل سیاست دان خطرناک غلطیاں سمجھتے ہیں اور جن سے ووٹ ڈالنے والے عوام ان سے دور ہو سکتے ہیں۔

ایریزونا میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب میکسیکو لوگ بھیجتا ہے، تو وہ بہتر لوگ نہیں بھیجتا۔ ’وہ ایسے لوگ بھیج رہے ہیں جن کو بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ وہ منشیات لا رہے ہیں۔ وہ ریپ کرنے والے لوگ ہیں۔‘

ان کے اس بیان سے ہسپانوی لوگ ان سے متنفر ہو سکتے ہیں۔ لیکن کئی ایک ٹرمپ کو اس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ جو سمجھتے ہیں وہی کہتے ہیں۔

ایک حالیہ جائزے میں رپبلکن نامزدگی کے لیے ان کی 24 فیصد حمایت دکھائی دی جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے جیب بش کی حمایت صرف 11 فیصد تھی۔

ٹرمپ کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ وہ خود اتنے دولت مند ہیں کہ ان کو کوئی نہیں خرید سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption جیریمی کوربن کی باتیں سننے کے لیے کافی لوگ آتے ہیں

جریمی کوربن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ لیبر پارٹی کے سب سے باغی رکنِ پارلیمان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں ان کے بہت سے ساتھی ادھر ادھر منہ پھیر لیتے ہیں، وہ ایک عزت دار آدمی ہیں جو بنیادی اصولوں پر قائم رہتے ہیں اور وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

ان کو سننے کے لیے آنے والوں کی تعداد دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کے پیغام کی پہنچ دور تک ہے۔

حالیہ برسوں میں بائیں بازو نے سپین میں پودیماز اور یونان میں سیریزیا جیسی جماعتیں پیدا کی ہیں جو احتجاجی جماعتوں سے حکومتی جماعتیں بن گئیں۔

گذشتہ برس برطانیہ کے عام انتخابات میں نائیجل فراج کی یوکپ نے بھی اس بنا پر حمایت حاصل کی کہ بقول فراج وہ ان مسائل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں جن سے ویسٹ منسٹر کے سیاستدان بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اور سکاٹ لینڈ میں ایس این پی نے بھی اس لیے میدان مارا کہ بقول اس کے وہ لندن میں دور دراز بیٹھی مراعات یافتہ سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لڑ رہی تھی۔

لوگوں کی بڑی تعداد اہم سیاست دانوں سے متنفر ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔

لوگوں میں ان سیاست دانوں کے متعلق لمبے عرصے تک رہنے والے احترام میں کمی کے علاوہ شکی لوگ اس کی وجہ سپن ڈاکٹرز، فوکس گروپس اور بڑے پیمانے پر منظم طور پر عوام میں حاضری اور مرکزی دھارے میں شامل سیاست دانوں کی بے معنی اور لکھی لکھائی زبان کا استعمال بتاتے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران مالیاتی سکینڈلوں سے بھی بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دوبارہ منتخب ہونے کی ایک کامیاب مہم کے لیے ایک امریکی سینیٹر کو ہر دن 14,000 ڈالر اکٹھے کرنا ہوتے ہیں۔

اس بات سے آگاہ ہوتے ہوئے کہ ان پر اعتماد نہیں کیا جا رہا، کچھ سیاست دان عوام میں جذبات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلیری کلنٹن 2008 میں ٹی وی پر ایک انٹرویو کے دوران آبدیدہ ہو گئی تھیں

جب 2008 میں نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری مقابلے میں ہلیری کلنٹن اندازے سے بھی زیادہ بری کارکردگی دکھا رہی تھیں تو وہ ٹی وی میں ایک شو کے دوران رو پڑیں۔

مبصرین نے اس وقت کہا تھا کہ اس لمحے نے ان کے ریاست میں کامیاب ہونے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

بحرِ اوقیانوس کے دونوں طرف انتخابی چکر کے حالیہ مراحل کا مطلب ہے کہ ٹرمپ اور کوربن پارٹی کے فعال ارکان سے حمایت کی اپیل کر رہے ہیں۔

اگر یہ دونوں جیت جاتے ہیں تو ان کو اپنی اپیل سیاسی طور پر کم پرعزم ووٹروں تک پہنچانے کے چیلنج کا سامنا کرنا ہو گا۔

لیکن یہاں بھی صداقت ہمیشہ وہ نتائج نہیں لاتی جن کی ووٹروں کو امید ہوتی ہے۔

یوروگوئے کے ہوزے موہیکا جدید دور کے سب سے صادق سیاست دان سمجھے جاتے ہیں۔

2010 میں صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد انھوں نے صدارتی محل میں رہنے سے انکار کر دیا تھا اور مانٹیودیو کے نواح میں اپنے ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے کو ترجیح دی تھی۔

وہ ایک ایسے انقلابی جنگجو ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کے دس سے زیادہ سال جیل میں گزارے لیکن پھر بھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور اب بھی اپنی 90 فیصد تنخواہ خزانے کو دیتے ہیں۔

لیکن پھر بھی صدر موہیکا کے اتحادی کہتے ہیں کہ ان کے رہنما کی کبھی نہ ختم ہونے والے آئیڈیلزم سے بھی اتنی سیاسی اصلاحات نہیں ہو سکیں جن کی انھیں امید تھی۔

اسی بارے میں