ترکی دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی میں حصہ لے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی نے امریکہ کو پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کے خلاف اپنے دو فوجی اڈے استمعال کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے

ترکی اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے بعد ترک فضائیہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی میں حصہ لے گی۔

امریکی حکام نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری اس لڑائی میں اس معاہدے کو ’ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔‘

واضح رہے کہ ترکی نے امریکہ کو پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کے خلاف اپنے دو فوجی اڈے استمعال کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔

ترکی نے اس سے پہلے بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کچھ فضائی حملے کیے ہیں لیکن اب وہ اس وسیع مہم کی حکمت عملی میں مکمل طور شامل ہو رہا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک نے کہا کہ اس معاہدے کو عملی شکل دینے میں ’کچھ اور دن لگیں گے۔‘

انھوں نے کہا ’ترکی کے ساتھ تعاون اور اس کی وسعت پر بات چیت مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔

پیٹر کک کا کہنا تھا کہ ترکی کے ساتھ سرحد سے منسلک مسائل پر بات چیت جاری ہے۔

عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے بعد ترکی نے گذشتہ ماہ پہلی بار اس تنظیم کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔

ترکی اس سے پہلے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے تذبذب کا شکار رہا تھا تاہم ترکی میں ہونے والے متعدد حملوں کے بعد اس کی پالیسی میں تبدیلی آئی۔

ترکی میں ہونے والے ان حملوں کا الزام شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر عائد کیا گیا تھا۔

ترکی دولتِ اسلامیہ کے ساتھ ساتھ شمالی عراق میں سرگرم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے شدت پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے مقابلے میں پی کےکے کو ترکی کے زیادہ حملوں کا سامنا رہا ہے۔

خیال رہے کہ (پی کے کے) کے رہنما نے ترکی پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ کرد جنگجوؤں پر حملہ کر کے دولتِ اسلامیہ کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترکی نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

اسی بارے میں