’عبدالعزیز ہی اب حقانی نیٹ ورک چلا رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ نے گذشتہ سال اگست میں عبدالعزیز حقانی کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی تھی

افغانستان کی شدت پسند تنظیم حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی امریکی حکومت کے اہم ترین اہداف میں رہے ہیں اور اب ان کے بھائی عبدالغزیز حقانی کو امریکی محکمۂ خارجہ نے عالمی دہشت گردوں کے فہرست میں شامل کیا ہے۔

حقانی نیٹ ورک پر الزام ہے کہ یہ تنظیم افغانستان میں امریکی، افغان اور دیگر غیر ملکی افواج اور اہلکاروں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔

عبدالعزیز حقانی کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل

افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالعزیز حقانی آج کل حقانی نیٹ ورک کے اہم عسکری کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ سال اگست میں حقانی نیٹ ورک کے ایک اور اہم انتظامی کمانڈر بدرالدین حقانی شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈورن حملے میں مارے گئے تھے جس کے بعد عبدالعزیز حقانی کو ان کی جگہ عسکری کمانڈر کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

عبدالعزیز حقانی کی عمر 25 سے 30 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ وہ اپنے بھائی سراج الدین حقانی سے چھوٹے ہیں۔

امریکہ نے گذشتہ سال اگست میں عبدالعزیز حقانی کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

افغان طالبان نے امریکہ کی طرف سے ان کے کمانڈروں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کے ردِعمل میں ایک بیان جاری کیا تھا جس میں امریکی فیصلے کی مذمت کی گئی تھی۔

عبد العزیز حقانی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اپنے بھائی بدرالدین حقانی کی ہلاکت کے بعد وہ افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج پر حملوں کے اہم منصوبہ ساز رہے ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کو گذشتہ مہینے افغان طالبان کے امیر ملا محمد منصور کا نائب مقرر کیا گیا تھا جس کے بعد تمام تر ذمہ داریاں عبدالعزیز کو سونپ دی گئی تھی۔

افغان ذرائع کے مطابق اب تک سراج الدین حقانی کے چار بھائی، جو نیٹ ورک کے اہم کمانڈر رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان میں مختلف واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک بھائی افغان جیل میں قید ہیں۔

جلال الدین حقانی کے سب سے بڑے بیٹے نصیر الدین حقانی کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں ایک حملے میں مارے گئے تھے جبکہ ایک اور بیٹے بدرالدین حقانی شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FBI
Image caption عبدالعزیز حقانی سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی ہیں

بتایا جاتا ہے کہ جلال الدین حقانی کے دو اور بیٹے عمر حقانی اور محمد حقانی افغانستان میں کارروائیوں کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک بیٹا انس حقانی افغانستان کے کسی جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سراج الدین حقانی اپنے بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

خیال رہے کہ افغان جہادی کمانڈر جلال الدین حقانی اور اس کے حامی روس کے خلاف جہاد کے وقت سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لیتے رہے ہیں اور ان کے یہاں مضبوط ٹھکانے قائم تھے۔

حقانی نیٹ ورک کے جنگجو بھی شمالی وزیرستان میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں حقانی کے شدت پسندوں کو بھی ایجنسی سے بے دخل ہونا پڑا۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بعد حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے بیشتر جنگجو افغانستان کے سرحدی مقامات کی جانمب منتقل ہوگئے ہیں۔تاہم کچھ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک کے جنگجو قبائلی علاقوں میں بھی دیکھے گئے ہیں لیکن اس ضمن میں مصدقہ اطلاعات نہیں ملیں۔

اسی بارے میں