آرٹ کی دنیا کے مہنگے ترین حادثات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مشہور آرٹسٹ لیو نارڈو ڈاونچی کے فن سے متاثر ہو کر بنائی جانے والی ایک پینٹنگ کو نمائش کے لیے دوبارہ پیش کر دیا گیا ہے۔

اس 17 ویں صدی کی پینٹنگ میں اتوار کو ایک تائیوانی بچے کے ہاتھوں حادثاتی طور پر سوراخ ہو گیا تھا۔

کلوز سرکٹ کیمرے کی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے نے ٹھوکر کھانے کے بعد سنبھلنے کی کوشش میں پینٹنگ کا سہارا لینے کی کوشش کی جس کے باعث اس کی مٹھی سے پینٹنگ میں سوراخ ہو گیا۔ اطالوی آرٹسٹ پاؤلو پورپورا کی اس پینٹنگ کی مالیت 15 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔

بی بی سی نے یہاں آرٹ سے متعلق دیگر چند مہنگے اور قابلِ ذکرحادثات کا جائزہ لیا ہے۔

چار کروڑ ڈالرکی کہنی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ میں جوئے خانوں کے معروف مالک سٹیو وین کا مشہور واقعہ ہے جب 2006 میں انھوں نے پابلو پکاسو کی شہرہ آفاق پینٹنگ ’لیغیو‘ میں اپنی کہنی سے سوراخ کر دیا تھا۔

وین اپنی یہ پینٹنگ ایک دوست کے ہاتھوں فروخت کرنا چاہتے تھے۔ خریداری کی شام وہ اپنے کچھ دوستوں کو یہ پینٹنگ دکھا رہے تھے جب پیچھے کی جانب ہٹتے ہوئے اُن کی کہنی پینٹنگ میں جا گھسی۔ اس واقعے کے بعد امریکی میڈیا میں یہ ’چار کروڑ ڈالر کی کہنی‘ کے نام سے مشہور ہوگئی جبکہ اس واقعے کے بعد اس پینٹنگ کا سودا منسوخ ہوگیا تھا۔

وین نے وہ پینٹنگ اصل حالت میں واپس لانے کے بعد 2013 میں اپنے اُن ہی دوست کو پہلے سے زیادہ مہنگے داموں یعنی 15.5 کروڑ امریکی ڈالر میں بیچ کر اپنی جھینپ ڈالروں کی شکل میں مٹا لی تھی۔

471000 ڈالر کا لڑھکنا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایسی ہی ملتی جلتی صورت حال 2006 میں چین کے ’چنگ‘ شاہی خاندان کے گلدانوں کے ساتھ پیش آئی۔ اس واقعے میں کیمبرج یونی ورسٹی کے فٹزولیم عجائب گھر میں ایک شخص کے سیڑھیوں سے لڑھکنے سے کھڑکی کی دہلیز پہ ایستادہ چنگ شاہی خاندان کے تین گلدان ٹوٹ گئے تھے۔

17ویں یا 18ویں صدی کے یہ چینی گلدان ایک سیٹ کا حصہ تھے جن کی مالیت اُس وقت تقریباً تین لاکھ برطانوی پاؤنڈ تھی۔

گلدانوں کو اُن کی اصل حالت میں واپس لانے میں عجائب گھر کو چھ ماہ کا عرصہ لگا۔ اب یہ گلدان خاص طور پر تیار کردہ باکس میں رکھے گئے ہیں۔

اس واقعے کی شہرت سے متاثر ہوکر جرمنی کے ایک آرٹسٹ نے ’لینڈنگ‘ کے نام سے ایک فن پارے میں اس واقعے کی منظر کشی بھی کی ہے۔ دوسری جانب فٹزولیم عجائب گھر میں ٹوٹے ہوئے گلدانوں کی تصویر پر مشتمل پہیلیوں کی طرز کے پوسٹ کارڈ فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔

سیڑھیوں سے لڑھکنے والے شخص پر کوئی الزام نہیں عائد کیا گیا تھا۔

دس ہزار ڈالر کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گلدان کے ٹوٹنے کا ایک اور واقعہ گذشتہ برس پیش آیا لیکن اس بار ایسا جان بوجھ کر ہوا تھا۔ فلوریڈا کے ایک آرٹسٹ میکسمو کمینیرو نے چینی آرٹسٹ آئی وے وے کے ایک گلدان کو توڑ دیا تھا۔

کمینیرو میامی کے پیریز عجائب گھر میں داخل ہوئے، آئی کے کئی منقش گلدانوں میں سے ایک کو اٹھایا اور زمین پر پھینک دیا۔

انھیں فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا تھا اور بعد میں ان پر مجرمانہ فعل کا الزام ثابت ہوگیا تھا۔ کمینیرو کو ہرجانے کے طورپر دس ہزار امریکی ڈالر کی ادائیگی کرنی پڑی تھی۔ ہرجانے کی رقم گلدان کی مالیت کے بارے میں لگائے گئے تخمینے کے برابر تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج انھوں نے عجائب گھر کی جانب سے مبینہ طور پر بین الاقوامی آرٹسٹوں کو مقامی آرٹسٹوں پر ترجیح دینے کے خلاف کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی کا یہ کام لوگوں کو اُن کے ساتھ ’احتجاج کے عمل میں‘ شامل ہونے کے لیے ’اکسانے‘ والا تھا۔

یہ گلدان آئی کے ایک اور آرٹ کے نمونوں کے سامنے رکھے تھے جنھیں آئی نے ’ڈروپنگ آ ہان ڈائینسٹی عرن‘ یعنی ہان شاہی خاندان کے گلدانوں کو گرانے کا نام دیا تھا۔ آرٹ کے ان تین نمونوں میں چینی آرٹسٹ کو بڑی جسامت کے گلدان کو توڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

انھوں نے بعد میں کہا کہ انھیں اندازہ نھیں تھا کہ گلدان اتنا پرانا تھا بلکہ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ تو یہ سمجھے تھے کہ وہ ’ہوم ڈیپو نامی امریکی دکان کا عام گلدان تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آرٹ کے ان تین نمونوں میں چینی آرٹسٹ کو بڑی جسامت کے گلدان کو توڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا

تاہم اس واقعے کے بعد اس بحث کا آغاز ضرور ہو گیا کہ عصر حاضر کے فن کی اصل تعریف کیا ہے۔ ایسا صرف اس لیے نہیں کہ خود آئی کو تاریخی فن پاروں کو تباہ کرنے کی نیت سے خریدنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ وہ ان منقش تاریخی گلدانوں کو خرید کر ان پر رنگ پھینکتے ہیں اور انھیں توڑ دیتے ہیں۔

ہانگ کانگ کے اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے آئی نے بتایا: ’میں نے اپنے ذاتی سامان کو توڑا تھا جبکہ انھوں نے دوسرے شخص کے سامان کو توڑا تھا۔ انسانی رویوں پر مبنی فن میں شدت بھی ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر آپ اپنے آپ کو بھی تکلیف پہچا سکتے ہیں، لیکن آپ فن کی خاطر کسی دوسرے کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے، کیا ایسا کرسکتے ہیں آپ؟‘

اسی بارے میں