جنوبی سوڈان کے صدر کے باغیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ممالک کی فوجوں کے مابین جاری لڑائی میں اب تک 22 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں

اقوام متحدہ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کی دھمکیوں کے بعد جنوبی سوڈان کے صدر سالوا کیر نے باغیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

دارالحکومت جوبا میں امن معاہدے کی دستخط کی تقریب میں شریک افراد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ انھیں معاہدے کی بعض شرائط پر ابھی بھی ’ تحفظات‘ ہیں۔

باغی رہنما ری اک مشارکو نے اس معاہدے پر گذشتہ ہفتے دستخط کیے تھے لیکن سالوا کیر نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس معاہدے کے بعد جبوبی سوڈان میں کئی ماہ سے جاری خانہ جنگی ختم ہو گی اور باغی رہنما ری اک مشارکو ملک کے نائب صدر کا عہدہ سنھبالیں گے۔

کینیا، یوگینڈا اور ایتھوپیا کے صدرور کے تعاون سے جنگ بندی کا معاہدے طے پایا ہے اور دستخط کی تقریب میں تینوں ممالک کے صدر موجود تھے۔

جوبا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط سے پہلے صدر سالوا کیر نے باغیوں کے رہنما سے طویل ملاقات کی۔

معاہدے کے بعد اجلاس سے خطاب میں معاہدے پر عدم اطمینان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’وہ چاہتے تھے کہ جنگی بندی کے معاہدے پر اپنے تحفظات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔‘

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ جنوبی سوڈان کے صدر سالوا کیر باغیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرلیں تو وہ اس پر’فوری عمل درآمد‘ کرانے کے لیے تیار ہے۔

جب تک سالوا کیر معاہدے پر دستخط نہیں کرتے اس وقت تک امریکی مسودے پر مبنی قرارداد کی روسے اسلحے کی ممانعت اور مخصوص پابندیاں عائد رہیں گی۔

دونوں جانب سے قیامِ امن کی تجاویز کی تفصیلات پر اختلافات تھے، جن کے تحت مچار کو دوبارہ نائب صدر بنا دیا جائے گا۔

جنوبی سوڈان دنیا کی سب سے نئی ریاست ہے۔ یہ 2011 میں آزاد ہوئی تھی۔

2013 میں مچار پر بغاوت کے الزامات عائد کرنے کے بعد شروع ہونے والے تنازعے میں کئی بار جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا جس کے بعد اس کی متعدد بار خلاف ورزی کی گئی۔

اسی بارے میں