’ پناہ گزینوں کے مسئلے پر شدید عوامی ردعمل کا خدشہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پناہ گزینوں کے مسئلے پر کانفرنس میں آسٹریا، جرمنی اور مغربی بلقان کے ممالک شامل ہیں

جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر صرف یورپ کے چند ممالک ہی پناہ گزینوں کے مسئلے کو برداشت کرتے رہے تو ایسی صورت میں شدید عوامی ردعمل آ سکتا ہے۔

دوسری جانب آسٹریا کے وزیر خارجہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ یورپی اتحاد کا پناہ کے متلاشی افراد کے بارے میں پالیسی کا اہم حصہ ناکام ہو رہا ہے۔

ویانا میں پناہ گزینوں کے معاملے پر ہونے والے اجلاس میں شرکت سے پہلے جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر سٹائن مائر کی جانب سے عوامی ردعمل کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب پناہ گزینوں کے مراکز پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یورپی یونین کے قوانین کے تحت کسی بھی پناہ گزین کو اس یورپی ملک میں درخواست دینا ہوتی ہے جہاں وہ پہنچتے ہیں، تاہم آسٹریا کے وزیر خارجہ سبیسٹیئن کرز کے مطابق یونان جیسے غریب ممالک پناہ گزینوں کو امیر ملکوں تک سفر کرنے دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یورپی ممالک نے مغربی بلقان کی ریاستوں سے داخل ہونے والے پناہ گزینوں کے مسئلے پر زیادہ توجہ نہیں دی ہے۔

اس کانفرنس میں سربیا اور مقدونیہ نے کہا ہے کہ یورپی اتحاد کو یورپ میں آنے والے پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان تیار کرنا چاہیے۔

گذشتہ ماہ 107,500 پناہ گزین یورپی سرحدوں میں داخل ہوئے تھے اور بدھ کو پولیس کے مطابق تین ہزار سربیا میں داخل ہوئے۔

جمعرات کو اس اجلاس میں توقع کی جا رہی ہے کہ مغربی بلقان کی ریاستوں کی مدد میں اضافہ، انسانی سمگلنگ کے گروہوں سے نمٹنے کی حکمت علی اور یورپ کے اندر سرحدوں کو زیادہ محفوظ بنانے پر بات ہو گی۔

اس اجلاس میں مقدونیہ کے وزیر خارجہ نکولا پوپسکی نے کہا ہے کہ جب تک اس مسئلے پر ہمارے پاس یورپی جواب نہیں ہوتا اس وقت تک کوئی بھی اس فریب میں نہیں رہے گا کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش میں دو ہزار افراد مارے جا چکے ہیں

رواں ماہ کے شروع میں جرمنی نے کہا تھا کہ اس برس آٹھ لاکھ تک پناہ حاصل کرنے کی درخواستیں آ سکتی ہیں اور یہ کسی بھی دوسرے یورپی ملک سے کہیں زیادہ ہیں۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک کو پناہ گزینوں کو جگہ دینا ہو گی۔ اگرچہ یورپ نے کوشش کی تھی کہ رکن ممالک کوٹا سسٹم قبول کر لیں جس کے تحت سربیا اور اریٹریا سے آنے والے 40 ہزار پناہ گزینوں کو آئندہ دو برس تک پناہ دینا تھی تاہم گذشتہ ماہ ساڑھے 32 ہزار افراد کو پناہ دینے پر اتفاق رائے ہو سکا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا اس مسئلے میں قائدانہ کردار کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شکریہ اس لیے ادا کیا گیا کہ جرمنی میں شام سے آنے والے پناہ گزینوں کو محفوظ ٹھکانے مہیا کیے گئے۔

ہنگری پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے باڑ نصب کر رہا ہے اور بدھ کو اس کی پولیس نے سربیا سے ہنگری میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا تھا۔

دوسری جانب بحیرۂ روم کے راستے اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس اب تک دو لاکھ 64 ہزار افراد یورپ پہنچے ہیں۔

کشتیوں کے ذریعے یونان پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ 81 ہزار سے زائد ہے جبکہ مقدونیہ میں روزانہ داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد تین ہزار ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک بحیرۂ روم عبور کرنے والے دو لاکھ 64 ہزار افراد میں سے ایک لاکھ چار ہزار اٹلی کے ساحلوں پر اترے ہیں جبکہ ایک لاکھ 60 ہزار یونان پہنچے ہیں۔

اسی بارے میں