برطانیہ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سنہ 2013 میں برطانیہ کے 13 فیصد لوگ بیرونِ ملک پیدا ہوئے تھے

برطانیہ کے ادارہ برائے قومی شماریات کا کہنا ہے کہ ملک میں نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس سال مارچ میں تین لاکھ 30 ہزار کے قریب افراد برطانیہ پہنچے۔

ملک چھوڑنے والوں اور ملک میں آنے والوں کا یہ تناسب حکومتی ہدف سے تین گُنا زیادہ ہے۔

سنہ 2013 میں برطانیہ کے 13 فیصد لوگ بیرونِ ملک پیدا ہوئے تھے، جس سے غیر ملکی نژاد آبادی کی تعداد 83 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

امیگریشن کے وزیر جیمز بروکنشائر کے مطابق یہ بات ’بہت پریشان کُن‘ ہے۔

یہ نقل مکانی کے اعداد و شمار میں ہونے والا پانچواں لگاتار سہ ماہی اضافہ ہے، جو او این ایس کے مطابق یورپی شہریوں کی بڑی تعداد میں برطانیہ سکونت اختیار کرنے کے باعث ہوا۔

سنہ 2014 کے مارچ تک نقل مکانی کرنے والے یورپی شہریوں کی اصل تعداد ایک لاکھ 83 ہزار سے53 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

سنہ 2011 میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ وہ حتمی وعدہ کر رہے ہیں کہ ’امیگریشن کی سطح کو اس سطح تک لے آئیں گے جتنا ہمارا ملک برداشت کر سکے۔‘

حالیہ اعداد و شمار کے بعد حکومت کا اس بات پر زور ہے کہ وہ امیگریشن کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یورپ میں جاری مہاجرین کے حالیہ بحران کے حل کے لیے اسے یورپی یونین کی مدد درکار ہے۔

بروکینشائر کے مطابق ’یہ اعداد وشمار انتہائی افسوس ناک ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سنہ 2014 کے مارچ تک نقل مکانی کرنے والے یورپی شہریوں کی اصل تعداد ایک لاکھ 83 ہزار سے53 ہزار تک پہنچ گئی تھی

’ان اعداد و شمار نے ان چیلنجوں کو بھی نمایاں کر دیا ہے جن کے مطابق ہمیں نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد گھٹانی ہو گی۔ انھیں اسے یورپی یونین کے لیے ایک اور خطرے کی گھنٹی کے طور پر لینا چاہیے۔

’یورپ میں لوگوں کا حالیہ اتنا زیادہ جمگھٹا دوسری جنگ عظیم کے اختتام سے لے کر اب تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ ناقابلِ قبول ہے اور یورپی یونین کے اتحادی ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے بھی خطرہ ہے۔‘

او این ایس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق:

برطانوی آبادی میں سب سے زیادہ غیربرطانویوں کا تعلق بھارت سے ہے۔ برطانیہ کے سات لاکھ 93 ہزار رہائشی بھارت میں پیدا ہوئے تھے۔

دوسرے نمبر پر پولینڈ ہے۔ برطانیہ کے آٹھ لاکھ 53 ہزار رہائشی اپنی شہریت پولینڈ کی بتاتے ہیں۔

جون 2015 تک پناہ کے لیے 25771 درخواستیں موصول ہوئیں جو گذشتہ 12 مہینوں کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ہیں۔ 11 ہزار چھ سو افراد کو پناہ گزین بنانے کی یا تحفظ کا ایک متبادل شکل فراہم کرنے کی تصدیق کی گئی۔

اسی بارے میں