’دورانِ ملازمت حملہ آور کا رویہ جارحانہ رہا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ WDB7
Image caption ٹی وی چینل کے جنرل مینیجر جیفری مارکس نے ٹی وی پر آ کر اپنے ملازمین کی ہلاکت کا اعلان کیا

امریکی ریاست ورجینیا میں میں دو صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے شخص کو دوران ملازمت ذہنی مسائل کی وجہ سے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا کہنا گیا تھا۔

ویسٹر فلینگن نامی حملہ آور کو ڈبلیو ڈی بی جے 7 نامی مقامی چینل سے برطرف کیا گیا تھا۔

ٹی وی چینل کے نیوز چیف ڈین ڈینسن کی دفتری دستاویزات کے مطابق ویسٹر فلینگن کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ’جارحانہ‘ رویے پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

ان دستاویزات کے مطابق ٹی وی چینل نے انھیں 2013 میں برطرف کرنے سے پہلے ان کے طبی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی تھی۔

انھیں مارچ 2012 میں ملازمت پر رکھا گیا تھا اور نوکری کے چند ہفتوں کے اندر ہی ان کے ساتھیوں نے شکایات کرنا شروع کر دی کہ ان کے ساتھ کام کرنے سے وہ خود کو محفوظ نہیں سمجھتے ہیں اور بے آرام رہتے ہیں۔

دفتری دستاویزات کے مطابق رپوٹنگ کے دوران ان کی مہمانوں کے سامنے کیمرا مین اور پروڈیوسرز سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔

اس کے بعد جولائی 2012 میں نیوز چیف نے انھیں کہا تھا وہ ڈاکٹر سے رجوع کریں یا برطرف ہونے کے لیے تیار رہیں۔

’ہم اب تمیں اس رویے کے ساتھ مزید برداشت نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے کام کرنے کا ماحول غیر موافق ہو جائے۔‘

اس سے پہلے پولیس کا کہنا ہے کہ دو صحافیوں کو گولی مارنے والے شخص نے حملے کے کچھ ہی دیر بعد اے بی سی نیوز کو ایک فیکس بھجوایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ نسلی امتیاز کی وجہ سے برہم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ واقعہ بدھ کی صبح سمتھ ماؤنٹین نامی جھیل کے قریب واقع ایک بڑے شاپنگ سینٹر برج واٹر پلازا میں پیش آیا

اے بی سی نیوز کو بھیجی گئی فیکس میں مسٹر فلینگن نے کہا ہے کہ سیام فام ہم جنس پرست ہونے کی وجہ اُن کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے اس حملے کے بعد کہا ہے کہ ملک میں اسلحے کو بہتر طریقوں سے کنٹرول کرنا ہو گا۔

ڈبلیو ڈی بی جے 7 نامی مقامی چینل کے سٹیشن انچارج نے کہا کہ ویسٹرلی فلینگن ایک ’ناخوش‘ انسان تھے اور انھیں 2013 میں نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

چینل پر چلنے والی فوٹیج میں خاتون صحافی ایلیسن پارکر ایک خاتون کا انٹرویو کر رہی تھیں کہ اچانک آٹھ گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں، پھر کیمراگھوما اور زمین پر جا گرا۔ اس دوران چیخنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

اس واقعے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد مسلح شخص نے انٹرنیٹ پر ویڈیو جاری کی، جس میں اُسے بہت قریب سے گولی مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اے بی سی نیوز کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور کی جانب سے انھیں 23 صفحات پر مشتمل فیکس موصول ہوا ہے جس میں انھوں نے نسلی امتیاز پر غصے کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ اُن کے خلاف نسلی امتیاز روا رکھا گیا اور گھر میں بھی انھیں ہم جنس پرستی کی وجہ سے نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے سنہ 1999 میں ایک 13 سالہ سکول کے بچے کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

اپنے فیکس میں انھوں نے کہا کہ چارلسٹن میں ہونے والے حملے میں چرچ جانے والے نو سیاہ فام افراد کی ہلاکت نے ’میرا غصے کا پیمانہ لبریز کر دیا۔‘

مشتبہ حملہ آور کی جانب سے بھیجا گیا فیکس تفتیشی اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل مشتبہ حملہ آور کے خاندان نے ایک بیان جاری کیا جس میں انھوں نے ہلاک ہونے والے صحافیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔