’چینی سیاح، درد سر بھی، مجبوری بھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایشیا سے آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد نے مالی بحران کا شکار مقامی ٹرین کمپنی کو تقویت دی ہے

اطلاعات کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ایک تفریحی مقام پر چینی سیاحوں کے لیے ایک خصوصی ٹرین سروس شروع کی جا رہی ہے تاکہ دوسرے سیاحوں کے سکون میں خلل نہ پڑے۔

سوئس اخبار ’بلک‘ کے مطابق کوہِ ایلپس میں واقع ماؤنٹ ریگی کی سیر کے دوران غل غپاڑہ کرنے والے چینی سیاحوں کی وجہ سے دوسرے سیاحوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو وہاں آرام و سکون کی تلاش میں آتے ہیں۔

اخبار نے کہا ہے کہ چینی سیاح ٹرین میں تصویریں لیتے وقت بھیڑ بھاڑ پیدا کر دیتے ہیں، اور بھرے ہوئے ڈبوں میں بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بعض فرش پر تھوکتے ہیں۔

ایشیا سے آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد نے مالی بحران کا شکار مقامی ٹرین کمپنی کو تقویت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کمپنی کے سربراہ پیٹر فینیگر کے مطابق ان کی موجودگی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔

ماؤنٹ ریگی کی سیر کرنے والوں میں سے نصف کا تعلق چین سے ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین میں اس بارے میں ایک تشہیری مہم چلائی گئی تھی۔ بلک اخبار کے مطابق ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریگی چینی ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔‘

اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ ایشیا سے آنے والے سیاحوں کے لیے الگ ٹرینوں کا اہتمام کیا جائے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اب ٹوائلٹ زیادہ کثرت سے صاف کیے جاتے ہیں، اور وہاں ایسے بورڈ نصب کیے گئے ہیں جن پر لکھا گیا ہے کہ باتھ روم کیسے ’درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔‘

ستمبر میں ایسی خصوصی ٹرین سروسز کی تعداد 20 تک پہنچ جائے گی۔

البتہ چین میں اس رپورٹ پر تنقید کی گئی ہے۔ اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق چینیوں نے کہا ہے کہ چین سے آنے والے سیاح سوئٹزرلینڈ کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

اخبار نے فینیگر کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے کہ چینی سیاحوں کو دوسری ٹرینوں میں سوار ہونے سے نہیں روکا جائے گا۔