عرب ڈیفنس فورس اصل میں کرے گی کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کہا جا رہا ہے کہ یہ فورس 40 ہزار فوجیوں پر مشتمل ہوگی

گذشتہ ہفتے لیبیا کی حکومت نے دیگر عرب حکومتوں سے نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کرنے کی درخواست کی تھی۔

درخواست ایسے وقت کی گئی ہے جب عرب لیگ کے اراکین کے درمیان مشترکہ عرب فوج بنانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

عمومی طور پراس فوج کا کام علاقے میں جاری مختلف نوعیت کے بحرانوں سے نمٹنا ہوگا۔

عرب لیگ کا مشترکہ فوج بنانے کا اعلان

لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مشترکہ فوج کو استعمال کرنے کے حوالے سے ان ممالک کی ترجیحات میں تضاد ہو سکتا ہے۔

عرب ڈیفنس فورس اصل میں کرے گی کیا؟

بی بی سی کے پال ایڈمز نے یہاں اس ہی معاملے پر روشنی ڈالی ہے۔

مشرق وسطیٰ اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں جاری مختلف نوعیت کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب اور مصر دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کرعرب ڈیفنس فورس کے نام سے ایک مشترکہ فوج بنانا چاہتے ہیں۔

اس حوالے سے تفصیلات ابھی زیرغور ہیں تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہ فورس 40 ہزار فوجیوں پر مشتمل ہوگی۔ جس میں ہوائی جہاز، جنگی بحری جہاز، کچھ چھوٹی ایلیٹ فورسز شامل ہوں گی جبکہ ایک حصہ بری فوج کا بھی ہوگا۔ اگر چہ کے اس کو استعمال کرنے کے امکانات کم ہی ہیں۔

دیگر ممالک جیسے مراکش، بحرین، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی شامل ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم افرادی قوت اور پیسوں کے معاملے میں سب سے زیادہ حصہ مصر اور شعودی عرب کا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عرب ممالک کی ترجیحات بھی اب خاصی مختلف ہیں اور پہلے یہ زیادہ سادہ اور آسان تھا جب سب کی توجہ کا مرکز صرف اسرائیل تھا

یہاں کئی عوامل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، جیسے ایک جانب امریکہ ہے جو ماضی قریب کے تجربے کے پیش نظر مشرق وسطیٰ کے معاملات میں مزید شامل نہیں ہونا چاہتا۔ اور پھر دوسری جانب نام نہاد دولت اسلامیہ اور اس کے حامی گروہوں سے نمٹنے کا معاملہ ہے۔ ادھر کچھ ممالک کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ علاقے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے کیسے نمٹا جائے۔

خلیجی ریاستوں کی جانب سے اس سے ملتی جلتی ایک اور فورس پہلے ہی موجود ہے لیکن اس کا استعمال شاید ہی کبھی کیا گیا ہو۔

اگر آپ یمن کی جانب دیکھیں تو وہاں سعودی عرب کی قیادت میں ایک بڑا عرب اتحاد نظر آتا ہے جو متنازع ہونے کے ساتھ ساتھ کسی حد تک کامیاب بھی ہے۔

عرب ممالک کو آج کے دور میں ایک ساتھ کام کرنے کا کوئی زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ اور پھر ان کی ترجیحات بھی اب خاصی مختلف ہیں۔ پہلے یہ زیادہ سادہ اور آسان تھا جب سب کی توجہ کا مرکز صرف اسرائیل تھا۔

اور اب مصر، لیبیا اور جزیرہ نما سینائی میں اسلامی انتہا پسندوں کے ساتھ نبرد آزما ہے جبکہ سعودی عرب کی تمام ترتوجہ ابھی بھی ایران سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔

اگر یہ فورس واقعی بن جاتی ہے تو اس میں شامل ممالک کو اس فیصلے پر پہنچنا ہوگا کہ آخر اس فورس کا کام ہوگا کیا؟

اسی بارے میں