جرمنی میں تارکین وطن کے حق میں ریلی، سینکڑوں افراد شریک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پناہ لینے والے افراد کے مرکز میں مقیم تارکینِ وطن بھی ریلی میں شریک تھے۔

جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں تارکینِ وطن کے حق میں نکالی جانے والی ریلی پر امن طور پر ختم ہو گئی ہے۔

اس سے قبل ڈریسڈن کے علاقے میں دائیں بازوں کی جماعتوں کی جانب سے تارکینِ وطن کے خلاف نکالی گئی ریلیاں پرتشدد رنگ اختیار کر گئی تھیں۔

جرمنی میں رواں سال کے دوران پناہ کی درخواستوں کی تعداد آٹھ لاکھ تک پہنچ جانے کا امکان ہے جو کسی بھی دوسرے یورپی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کے حق میں نکالی گئی ریلی میں ایک ہزار سے زائد افراد شریک تھے۔ ریلی کا انعقاد نازی مخالف اتحاد نے کیا تھا اور اُن کا کہنا تھا کہ ریلی میں پانچ ہزار سے زائد افراد شریک ہیں۔

جرمنی میں ڈریسڈن کو اسلام مخالف مہم ’پیگیڈا‘ کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے اور سنہ 2014 میں ایک مظاہرے کے دوران ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے تھے جبکہ رواں سال ہونے والے مظاہرے میں 25 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ریلی کا انعقاد نازی مخالف اتحاد نے کیا تھا اور اُن کا کہنا تھا کہ ریلی میں پانچ ہزار سے زائد افراد شریک ہیں

شام اور عراق میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے یورپی ممالک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور دیگر یورپی ممالک کی طرح جرمنی میں بھی تارکین وطن کے بارے میں بہت بات ہو رہی ہے۔

تارکینِ وطن کے حق میں ہونے والے مظاہرے میں شریک افراد کہہ رہے تھے کہ ’واضح اور بلند آواز میں تارکینِ وطن کو خوش آمدید کہا جائے۔‘

خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ پناہ لینے والے افراد کے مرکز میں مقیم تارکینِ وطن بھی ریلی میں شریک تھے۔

چانسلر میرکل نے کہا ہے کہ تارکینِ وطن کے خلاف مظاہروں میں تشدد پر صفر برداشت کا قانون لاگو ہو گا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے ایک عوامی جائزہ کے نتائج کے مطابق ملک کی 60 فیصد عوام کی رائے میں جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے اور تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کو پناہ دے سکتی ہے۔

اسی بارے میں