سعودی خواتین کو ووٹ کے پہلے موقع سے محروم کرنے کی مہم

سعودی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مردانہ تسلط کے حامل سعودی معاشرے میں خواتین کو کئی طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے

سعودی عرب میں رجعت پسندوں نے آن لائن پر ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد دسمبر میں ملک میں خواتین کو ووٹ کے پہلے موقع کی مخالفت کرنا ہے۔

لیکن ان کے مقابلے میں سوشل میڈیا کے صارفین میدان میں اتر آئے ہیں جو طنز اور مزاح کے ذریعے معاشرے میں خواتین کے مقام کی ترویج کر رہے ہیں۔

سعودی عرب میں خواتین پہلی بار نہ صرف اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گی بلکہ بلدیاتی انتخابات بھی لڑ سکیں گی۔

البتہ ایک قدامت پسند گروہ نے حال ہی میں ملک کے مفتی اعظم سے ملاقات میں زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور انتخابات میں خواتین کو شرکت سے روکیں۔

مفتی نے ان کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے مذکورہ گروہ کو ’زندگی کے دشمن‘ سے تعبیر کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک ہیش ٹیگ نے خواتین کی انتخابات میں شرکت کے مخالفین کو پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔# The_danger_of_electing_a_woman_in_municipal_electionsگذشتہ تین ماہ سے چل رہا ہے اور پچھلے ماہ اسے 7500 سے زیادہ مرتبہ استعمال کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption جرمن چانسلر کی ایک تصویر وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہے جس کے نیچے درج ہے: ’ذرا پھر سے کہنا، مجھے اچھا لگا‘

مگر اس مہم کا الٹا نتیجہ یہ نکلا کہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک دم سرگرم ہوگئے اور انہوں نے اس مقصد کے لیے طنز و مزاح کا اپنا آلہ بنایا۔

’خطرناک، ناقابلِ قبول‘

یہ نقطۂ نظر کہ خواتین امیدواروں کا میدان میں اترنا ’خطرناک اور ناقابلِ قبول ہے‘ خاصا مقبول ہے۔ اس کا اظہار @Mohtasb Taif نے کیا تھا جسے بعد میں 110 مرتبہ مختلف صارفین نے ٹویٹ کیا۔

انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے 2001 میں خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کے کنویشن (CEDAW) کی توثیق پر بھی تنقید کی۔ یہ بین الاقوامی معاہدہ توثیق کرنے والے تمام ممالک پر لازم قرار دیتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ہر طرح کے امتیازی سلوک کا قلع قمع کیا جائے۔

ایک دوسرے سعودی صارف @ahmed5629 کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں عورتوں کی شرکت ’مغرب کے منصوبہ‘ کا حصہ ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے روکا جائے۔‘

خواتین کی شرکت کے حامی سعودی مرد

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption صارفین نے مصری چینل سی بی سی کے سکرین سے لی گئی تصاویر ٹویٹ کی ہیں جن میں کامیاب خواتین اور برقعہ لیے ایک سعودی عورت کو دکھایا گیا ہے اور ساتھ ہی درج : ’میں ذہانت اور مذہب کے اعتبار سے وجہ رسوائی اور کمتر ہوں‘

ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ خواتین کی انتخابات میں شرکت کے حامی سعودی مرد و زن نے اس ہیش ٹیگ پر سبقت حاصلی کر لی۔

@abduilaziz نے لکھا: ’عورت صرف بچے پیدا نہیں کرتی، بلکہ وہ ان کی پرورش اور تربیت و تعلیم بھی کرتی ہے۔ اس کے منتخب ہوجانے سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔‘

@jamilfarsi نے ٹویٹ کیا: ’انتخابات میں عورت کے منتخب ہونے کا خطرہ ویسا ہی ہے جیسے تمہاری ماں کا تمہیں پال پوس کر ایک مرد اور بلدیاتی کونسل کا رکن بنانا۔‘ اس ٹویٹ کو 200 مرتبہ سے زیادہ صارفین نے دوہرایا۔

طنزیہ جواب

ایک ٹیوٹ جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’جس قوم کی سربراہ عورت ہو وہ ناکام ہو جاتی ہے،‘ @Fanunx نے طنزاً کہا: ’تو برطانیہ اور جرمنی ناکام ہوگئے ہیں، اور عرب ممالک اپنے مردوں کے بل بوتے پر فاتح ہیں۔‘ ان کی یہ ٹویٹ بھی 200 مرتبہ سے زیادہ ری ٹویٹ کی گئی۔

جرمن چانسلر اینگلا مرکل کی ایک تصویر بھی بہت مقبول ہوئی جس کے نیچے درج تھا: ’ذرا پھر سے کہنا، مجھے اچھا لگا۔‘

خواتین کو کمتر سمجھنے والوں افراد کے مقابلے میں کئی صارفین نے کامیاب خواتین اور سیاستدانوں کی تصاویر چسپاں کی۔

@haunted2012 نے لکھا: ’یقیناً خطرہ تو ہے! کیونکہ انتخابات کا مطلب آواز بلند کرنا اور رائے کا اظہار ہے، دوسری صنف کی آواز (جسے وہ دباتے رہے ہیں) انہیں ڈراتی ہے۔

مجموعی طور پر خواتین کے انتخابات میں شرکت کے حامیوں کی تعداد مخالفین سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں