جاپان میں فوج کی بیرون تعیناتی کے قانون کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ سابقہ جاپانی امن پسندانہ آئین کی حفاظت کے خواہش مند ہیں

جاپان میں ہزاروں افراد نے فوج کو بیرون ملک زیادہ موثر کردار ادا کرنے کی اجازت سے متعلق مجوزہ قانون کے خلاف پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا۔

ملک کے موجودہ قانون میں ترامیم کے باعث جاپان کے فوجی دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ بیرونِ ملک جا کر لڑ سکیں گے۔

جاپان کے ایوانِ زیریں نے پہلے ہی اس قانونی کی منظوری دے دی ہے جبکہ ایوانِ بالا کی جانب سے بھی اس کی توثیق کی توقع کی جا رہی ہے۔

جاپان کے آئین کے تحت اس کی افواج اپنے دفاع کے علاوہ کسی اور تنازعے کے حل میں حصہ نہیں لے سکتیں۔

تاہم قانون میں کی گئی نئی ترمیم اب’اجتماعی طور پر ذاتی تحفظ‘ کی اجازت دیتی ہے۔ یعنی جاپان کے اتحادیوں پر حملے کی صورت میں ان کے دفاع کے لیے جاپانی افواج کا استعمال کیا جا سکے گا۔

ان مظاہروں کی قیادت جاپانی طلبا اور دیگر نوجوانوں کی جانب سے کی جارہی ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ سابقہ جاپانی امن پسندانہ آئین کی حفاظت کے خواہش مند ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم آبے اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ تبدیلی جاپانی افواج کی غیر ملکی جنگوں میں شمولیت کی حمایت نہیں کرتی

پولیس سڑکوں کی حد بندی کرتے ہوئے مظاہرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ دارالحکومت کے مرکز سے منتقل ہو جائیں تا کہ یہاں انتشار پیدا نہ ہو۔

جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے کا کہنا ہے کہ جاپان کی حفاظت کے لیے یہ تبدیلیاں ضروری ہیں لیکن رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر جاپانی اس کی مخالفت میں ہیں۔

اس منصوبے پر تنقید اس وقت کی گئی جب حال ہی میں جاپان کے شہر ناگاساکی پر امریکی ایٹم بم گرائے جانے ایک یادگاری تقریب منعقد کی گئی تھی۔

اگست سنہ 1945 میں گرائے گئے اس ایٹم بم کے نتیجے میں 70 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران زندہ بچ جانے والے سُمیٹیرو تینیگوچی نامی ایک 86 سالہ شخص کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آبے کی نئی قانون سازی ان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔

وزیراعظم آبے اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ تبدیلی جاپانی افواج کی غیر ملکی جنگوں میں شمولیت کی حمایت نہیں کرتی۔

اسی بارے میں