یمن میں سعودی عرب کے فضائی حملوں میں 31 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یمن میں حکومت اور سعودی عرب کی اتحادی افواج شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے حوثی باغیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں

یمن کے شمالی صوبے حجا میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ اتحادی افواج نے فضائی حملے کیے ہیں۔ جس میں کم سے کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

اتوار کی صبح ہونے والے فضائی حملوں میں بوتلوں کے پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

یمن میں حکومت اور سعودی عرب کی اتحادی افواج شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے حوثی باغیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال مارچ میں شروع ہونے والے اتحادی افواج کے حملوں کے بعد سے اب تک کم سے کم 4500 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ملک میں ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں جس سے ’انسانی بحران‘ جنم لے رہا ہے۔

اتوار کی صبح ہونے والے اس حملے کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں نکالنے کا کام مکمل ہو گیا ہے۔ جائے وقوعہ کے قریب ایک رہائشی عیسیٰ احمد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’زیادہ تر لاشیں جلی ہوئی تھیں اور ٹکڑوں میں تھیں۔ متاثرہ پلانٹ سے لاشیں نکال لی گئی ہیں۔‘

اتوار کو ساحلی شہر عدن میں سکیورٹی کے سربراہ عبدالحکیم آلسینادی کو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

جولائی میں حکومت کی حمایت یافیتہ ملیشیا کا عدن میں دوبارہ قبضہ سنھبالنے کے بعد سے شہر میں اقتدار کو خلا پیدا ہو گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے جنگجو شہر کے مضافات کی جانب رخ کر رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے تعیز شہر میں اتحادی افواج کے حملے میں 65 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیم میڈسن ساں فرنٹیئر نے کہا تھا کہ شہر میں مخالف گروہوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صدر منصور ہادی کی حکومت بحال کرنے اور حوثی باغیوں کو شکست دینے کے لیے سعودی عرب کی کمان میں جاری عسکری آپریشن کے بعد سے اب تک 4500 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں 1950 افراد عام شہری ہیں۔

اسی بارے میں