مشرق وسطیٰ کی جنگیں اور داعش کے خلاف اتحاد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس وقت عراق میں مقامی سیاست کی تمام پیچیدگیوں کے لئے، جنگ کے حدود بہت حد تک واضح ہیں

وہ کہتے ہیں نا کہ مشکل حالات بہت سے اجنبیوں کو بھی اکٹھا کر دیتے ہیں، یہ مثال خاص طور پر اس زمانے کے مشرق وسطیٰ پر پورا اترتی ہے۔

شام اور عراق کے علاقوں کو کنٹرول کرنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے پھیلاؤ نے ایک بڑے بین الاقوامی اتحاد کو جنم دیا ہے۔ جس میں امریکہ، ترکی اور واشنگٹن کے خلیجی اتحادی شامل ہیں اور ان کا مقصد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا خاتمہ ہے۔

اس میں بے شک ایران اور اسرائیل بھی شامل ہیں اور اس میں کوئی حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس کے نتیجے میں مثال کے طور پر عراق میں لڑنے والی ایران کی حمایت یافتہ میلشیا بھی اسی طرف ہوں گی جس طرف امریکہ ہے۔

شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں تضادات بڑھ رہے ہیں۔ خلیجی ممالک مشتبہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سنی گروپس کی حمایت کررہے ہیں جبکہ القاعدہ سے منسلک گروپ جیسے کے النصرہ فرنٹ امریکہ کے تربیت یافتہ شامی باغیوں سے لڑ ائی میں مصروف ہیں۔

تو حقیقت میں چل کیا رہا ہے؟ ہم کس طرح ان بیجا مداخلت والے اتحادیوں اور تضادات کے بارے میں تصور کریں؟

ٹوٹی ہوئی ریاستیں

عراق اور شام جیسے مماملک کی آج کے جدید دور کی خصوصیات دوسری عالمی جنگ کے بعد شاہی اعتکاف کی پیداوار ہیں، یہ ٹوٹ سکتی ہیں اور شاید یہ دوبارہ کبھی ایک ساتھ نہ آئیں۔

اس مہینے کے اوائل میں سبکدوش ہونے والے امریکہ کے آرمی چیف ریمنڈ اورڈیرنو بہت زیادہ حیران ہیں کہ تقسیم کا منصوبہ عراق کے لیے ایک بہتر نتیجہ ہو سکتا ہے۔

شام کے لیے یہ پیش گوئی کرنا تقریباً ناممکن ہے یہ بکھرا ہوا ملک کیسا ہوگا اگر اسد کی حکومت کو شکست ہوتی ہے۔اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس کے نتیجے میں مثال کے طور پر عراق میں لڑنے والی ایران کی حمایت یافتہ میلشیا بھی اسی طرف ہوں گی جس طرف امریکہ ہے

تاہم اس کے درمیان اسلام مخالف قوتوں کی لائن کافی واضح ہے۔

امریکہ اس کے بہت سے یورپی اتحادی ، سعودی عرب ، کئی خلیجی ممالک ، اس کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا اور کینیڈا بھی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی مہم میں شامل ہیں۔

یقیناً کچھ ممالک جیسے کے برطانیہ دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کو عراق تک محدود کر رہے ہیں اور شام میں اس کو نشانہ نہیں بنارہے ہیں۔ اور یہ عراق اور شام کے درمیان فرق ہے جو پیچیدگیوں کی وضاحت کررہا ہے۔

میدانِ جنگ

عراق براہ راست دو حصوں میں ہے لیکن اس کو واضح طور پر تین حصوں میں تقیسم کیا جا سکتا ہے۔

بغداد میں ایک کمزور شیعہ اکثریتی حکومت کرپشن اور دولت اسلامیہ کے خلاف برسر پیکار ہے اور اسے بہت معمولی کامیابیاں ملی ہیں۔ اسے امریکہ اس کے اتحادیوں اور ایران کی حامیت حاصل ہے جو دولت اسلامیہ کا بڑا مخالف ہے۔شمالی عراق کے نیم خود مختار علاقے کردوں کے زیر اثر ہیں جو دولت اسلامیہ کے خلاف معروف اور سب سے زیادہ مؤثر جنگجوؤں ہیں۔سنی اقلیت جن میں سے بیشتر خود کو شیعہ اکثریتی عراقی ریاست کا حصہ محسوس نہیں کرتے ہیں اور ان میں سے کچھ دولت اسلامیہ کے ساتھ لررہے ہیں۔

تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عراق میں امریکہ اور اس کے اتحادی دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی قوت سے حملے کررہے ہیں ۔ عراق کی فوج، کرد جنگجو اور ایران کی حامی ملیشیا زمین پر مضبوطی کے ساتھ مختلف زاویوں میں جدوجہد کر رہے ہیں۔

اس وقت عراق میں مقامی سیاست کی تمام پیچیدگیوں کے لئے، جنگ کے حدود بہت حد تک واضح ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں صدر اسد کی حکومت کمزور ہوتی جا رہی ہے

تاہم شام مکمل طور پر مختلف ہے کیونکہ وہاں صرف ایک جنگ نہیں لڑی جارہی ہے۔

ایک سطح پر عراق میں یکسانیت ہے امریکہ اور اس کے اتحادی فضائی طاقت سے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنارہے ہیں اور انھیں زمین پر کرد اور دیگر فورسز کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن دولت اسلامیہ مخالف نام نہاد جدت پسند قوتیں کمزور اور منقسم ہیں اور امریکہ زیادہ نتائج حاصل کرنے کے لیے انھیں ٹریننگ کے ذریعے سے سہارا دے رہا ہے۔

امریکہ کے خلیجی اتحادی سعودی عرب اور قطر شام میں مختلف گروپس کی حمایت کر رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کی نظریں دوسری جنگ کی جانب ہیں خطے میں ایران کے اثرو رسوخ کے خلاف جاری جنگ پر مثال کے طور پر شام کے صدر بشار الاسد اور لبنان میں ان کے (اور ایران کے) اتحادی حزب اللہ مورچہ بند ہیں۔

یہ شام کی حکومت کے ساتھ مل کر لڑرہی ہیں اور کچھ مصدقہ اطلاعات میں اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے کچھ کمانڈرز بھی اس میں شامل ہیں۔

خلیج عرب میں ایران کے خلاف جدوجہد بھی اتنی اہمیت کی حامل ہے جتنی کہ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اسد کی حکومت کو گرانے کے لیے شام میں رقم اور ہتھیار پہنچا رہے ہیں۔

امریکہ بھی اسد کو پیچھے دکھیلنا چاہتا ہے لیکن یہ فورسز کے ہاتھوں ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسد کی حکومت بھی بیک وقت دولت اسلامیہ اور مغربی طاقتوں سے لڑرہی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیونکر مستقبل میں عراق اور شام کے لیے مربوط حکمت عملی کے نتائج حاصل کرنا مشکل ہے۔

کرد جنگجو

ضرورت ہے کہ شامی خانہ جنگی اور اسد کی حکومت کی بقا کی جنگ کو خود کی جنگ کا نام دیا جائے اگرچہ یہ پہلے سے نشاندہی کی گئی دو جنگوں میں گھرے ہوئے ہیں۔

اس کے برخلاف یمن میں ایران کی جوابی حکمت عملی بھی کام کررہی ہے جہاں سعودی عرب اور اس کے اتحادی فوجی مداخلت کرچکی ہیں اور ایک بار پھر ان گروپس کی حمایت کا سوچ رہے ہیں جن کو امریکہ القاعدہ سے منسلک دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

اس کے علاوہ یہاں کردوں کا عنصر بھی ہے۔ کردوں کے اپنے سیاسی اور قومی مقاصد ہیں لیکن یہ ترکی ، شام اور عراق میں بنٹے ہوئے ہیں اور مختلف عوامل میں تقسیم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک فوجی کھلاڑی کے طور پر شام کا خاتمہ اسرائیل کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں ہے

عراق میں تبدیلی اور شام میں ممکنہ ٹوٹ پھوٹ سے کردوں کے مقاصد بڑھاوا ملنے کا امکان ہے جیسے کے امریکہ کی کردوں کو حمایت جنھوں نے دولت اسلامیہ کے خلاف مضبوط جنگجو ثابت کیا ہے۔

انقرہ میں ترکی کی حکومت کو اس بات کا ڈر ہے کہ اگر شام اور عراق ٹوٹ جاتا ہی تو اس سے ترکی میں موجود کردوں کو سرحدوں کو توڑنے کے مقصد کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

ترکی نے بھی فضائی مہم میں شمولیت اختیار کی ہے لیکن اس کے اہداف دولت اسلامیہ کے خلاف نہیں بلکہ کرد جنگجو ہیں ، جو دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں۔

تین جنگوں کا ذکر پہلے ہی کیا جا چکا ہے ۔ پہلی اتحادیوں اور دولت اسلامیہ کے درمیان، دوسری ایران کو روکنے کی خلیج عرب کی کوششیں اور تیسری شام کی خانہ جنگی اور چوتھی میں آپ ترکی اور کچھ کردوں کے درمیان جنگ کو بھی شامل کرسکتے ہیں ۔

اسرائیلی اتحاد

بے شک ایک پانچویں ’جنگ‘ خطے کا سب سے طویل چلنے والا تنازعہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ہے اور یہ دولت اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ سے بھی متاثر ہے۔

ایک فوجی کھلاڑی کے طور پر شام کا خاتمہ اسرائیل کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔

دولت اسلامیہ سے متاثرہ گروپس دونوں جانب شمالی سرحد پر اور مصر کے جزیرہ نما سینا میں سرگرم ہیں۔ لیکن دولت اسلامیہ کا بڑھتا ھوا اثر و رسوخ (اور ایران کے بارے میں ایک مشترکہ تشویش) اسرائیل او نام نہاد اعتدال پسند عرب ریاستوں کو قریب لے آئی ہے۔

اس کی واضح علامت اسرائیل اور اردن کے بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات ہیں۔ حالیہ چند ہفتوں میں اسرائیل نے اومان کو حملہ کرنے والے ہیلی کاپٹر اور ڈرون فروخت یا منتقل کیے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کہ جب حال ہی میں اسرائیل اور اردن کے جنگی طیارے امریکہ میں جنگی مشقوں کے لیے گئے تو اردن کے ایف سولہ جہاز اور اسرائیل کے ٹینکر ائیرکرافٹ اکھٹے تھے۔

جبکہ تجزیہ کاروں کی تمام تر توجہ دو موجودہ ممالک شام اور عراق کے ممکنہ خاتمے پر مرکوز ہے ۔ حطے اس صورتحال میں اصل ردعمل دو نئی ریاستوں کا طلوع ہونا ہے ان میں سے ایک دولت اسلامیہ کی خلافت ہے اور دوسری جانب کردوں کی ابھرتی ہوئی قوم ہے۔

اسی بارے میں