نائجیریا میں بوکوحرام کی نظریں صنعتی مرکز لاگوس پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بوکو حرام گزشتہ چھ سال سے نائجیریا میں شورش میں ملوث ہے لیکن یہ ملک کے شمال مشرقی حصے تک محدود رہی ہیں

افریقہ میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام اپنی سرگرمیوں کو نائجیریا کے شمال میں مسلم اکثریتی علاقوں سے اگے تک وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے جن میں سب سے بڑے شہر لاگوس اور ملک کے دیگر حصے شامل ہیں۔

سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ نائیجریا کی خفیہ ایجنسی کے مطابق جولائی سے اب تک اس اسلامی شدت پسند تنتظیم کے 12 کے قریب ارکان لاگوس سے گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ تاہم آزادانہ طور پر اس بیان کی تفصیلات کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

بوکو حرام گزشتہ چھ سال سے نائجیریا میں شورش میں ملوث ہے لیکن یہ ملک کے شمال مشرقی حصے تک محدود رہی ہیں۔

ایک بیان میں سٹیٹ سروسز کے محکمے نے کہا ہے کہ حکام نے ملک کے جنوب مشرقی شہر اینوگو اور مرکزی اور شمالی نائجیریا سے بھی بوکوحرام کے ارکان کو گرفتار کیا ہے۔

محکمے کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم پر ملک کے شمال مشرق میں دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وہ جنوبی نائجیریا کی طرف جا رہی ہے۔

تاہم لاگوس میں بی بی سی کے نامہ نگار وِل راس کا کہنا ہے کہ یہ گروپ ملک کے شمال مشرق میں اب بھی تباہی مچانے میں مصروف ہے اور اطلاعات کے مطابق جمعے کو بورنو ریاست میں ایک حملے میں 50 کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق لاگوس میں بہت سے افراد کو یہ جان کر تشویش ہوگی کہ حالیہ ہفتوں میں یہاں سے بوکو حرام کے 12 کے قریب اراکین گرفتار کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات کے مطابق جمعے کو بورنو ریاست میں ایک حملے میں 50 کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں

بی بی سی نے نامہ نگار کا کہنا ہے ’مجھے لاگوس کے رہنے والے اکثر کہتے ہیں کہ جہادی گروپ اس شہر پر کبھی حملے کی جرات نہیں کرے گا لیکن یہ بات اطمینان دلانے کی بجائے بھول پن پر مبنی لگتی ہے خصوصاً جب یہاں گذشتہ برس تیل کے ایک ڈپو کو بم کا نشانہ بنانے کی کوشش ہوئی تھی۔‘

خفیہ پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کا اعلان ایسے وقت آیا ہے جب ایک اور بیان کے مطابق ابوجہ ایئرپورٹ سے ایک نوجوان بوکو حرام کے لیے خفیہ معلومات جمع کرتا ہوا پکڑا گیا ہے۔

حکومتی خفیہ محکمے کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے ’خوفناک حملے‘ ہونے سے روک دیے گئے ہیں اور یہ کہ ’اہم کمانڈر اور مرتبے کے مالک اراکین‘دھر لیے گئے ہیں۔‘

’ہمارے پاس ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق کرنا ممکن نہیں لیکن قابلِ ذکر ہے کہ سکیورٹی کے تمام محکموں پر دباؤ ہے کہ وہ مظاہرہ کریں کہ بوکوحرام کے خلاف وہ موثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر جب صدر محمد البحاری نے بوکوحرام کی بغاوت کچلنے کو ترجیح بنایا ہوا ہے اور وہ اہم عہدوں پر اب تک تعیناتیاں کر رہے ہیں۔

خفیہ ادارے کے محکمے میں جولائی کے اوائل میں ڈائریکٹر جنرل کو مقرر کیا گیا تھا اور تازہ بیان کے مطابق شدت پسندوں کی گرفتاریاں اگلے ہی ہفتے ہوئیں۔

اسی بارے میں