آسٹریا میں پانچ مشتبہ انسانی سمگلرگرفتار، 200 تارکینِ وطن برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یورپی ملک آسٹریا میں حکام نے ملک کی مشرقی سرحدوں پر گاڑیوں کی تلاشی کے آپریشن کے دوران پانچ مشتبہ انسانی سمگلروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

آسٹریا کی پولیس کے سربراہ کونارڈ کوگلر کا کہنا ہے کہ ان سمگلروں کی گاڑیوں سے دو سو سے زیادہ غیرقانونی تارکینِ وطن برآمد کیے گئے ہیں۔

گاڑیوں کی تلاشی کا آپریشن وزارتِ داخلہ کے احکامات پر اتوار کی شب شروع ہوا۔

اس آپریشن کا فیصلہ جمعرات کو ہنگری سے آسٹریا آنے والے ایک ٹرک سے 71 تارکینِ وطن کی لاشوں کی برآمدگی کے بعد کیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں پہلے ہی ہنگری کی پولیس اب تک پانچ افراد کو گرفتار کر چکی ہے جن میں سے تین بیلجیئم اور ایک افغانستان کا شہری ہے۔

آسٹریا کی وزیرِ داخلہ جوہانا مائیکل لینٹر نے پیر کو آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سمگلروں کے گروہ انتہائی ظالمانہ طریقے سے کام کر رہے ہیں اور ہمیں سخت اقدامات کر کے ان کا قلع قمع کرنا چاہیے۔‘

اتوار کی شب آسٹریا میں آپریشن کے دوران تین مختلف سرحدی چیک پوسٹس پر تلاشی کے عمل کی وجہ سے ہنگری کی سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور بڈاپسٹ سے آسٹریا کی جانب جانے والی شاہراہ پر یہ قطار 30 کلومیٹر طویل تھی۔

مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے شورش زدہ ملکوں سے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن یورپ میں داخل ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں زیادہ تر بحری راستہ اختیار کیا جا رہا ہے تاہم زمینی راستے سے بھی انسانی سمگلنگ کا عمل جاری ہے۔

رواں سال گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی اور سمندری سفر کے لیے ناقابل کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوششوں میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

صرف گذشتہ ماہ یورپ کی حدود میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد 107,500 ریکارڈ کی گئی تھی۔

اسی بارے میں