براک اوباما کا کاربن کا اخراج کم کرنے پر زور

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption الاسکا کے تین روزہ دورے کے دوران اوباما قطبِ شمالی کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر بن جائیں گے

امریکی صدر براک اوباما نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اس سال دسمبر میں پیرس میں کاربن کا اخراج کم کرنے کے اہم معاہدے پر متفق ہو جائیں۔

الاسکا میں بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک اس سے پہلے عالمی تپش کی روک تھام کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کر رہے تھے۔

’عالمی حدت تھمی نہیں‘

عالمی طاقتوں نے گذشتہ دسمبر میں بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کی روک تھام پر اتفاق رائے کے عزم کے تحت ملاقات کی تھی۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ’ہم اپنے سیارے کو محفوظ بنانے کے لیے بھی کچھ کر سکتے ہیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘

الاسکا پہنچنے کے فوری بعد انھوں نے قطبِ شمالی کے معاملات پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ایک ملاقات میں کہا کہ ’تمام مسائل میں یہ مسئلہ ایسا ہے جس کے معاملے پر بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ اور اس لمحے کا دارومدار ہم پر ہے۔‘

بعد میں پیرس میں ہونے والی ملاقات میں بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کو دو سینٹی گریڈ تک کم کرنے لیے معاہدہ کیا جائے گا۔ تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ مقصد حاصل نہیں ہو پائے گا۔

الاسکا کے تین روزہ دورے کے دوران اوباما قطبِ شمالی کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر بن جائیں گے۔

وہ ایک گلیشیئر پر پیدل چلیں گے، جس میں حالیہ چند برسوں کے دوران واضح پگھلاؤ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مشہور مہم جو بیئر گرِلز کے ہمراہ ٹی وی پر بھی نظر آئیں گے۔

براک اوباما نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ کو اپنے دوسرے دور کے اہم سنگِ میل میں سے ایک بنا دیا ہے۔ گذشتہ ماہ انھوں نے امریکہ میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اگلے 15 سالوں کے لیے تقریباً ایک تہائی منصوبوں کی نقاب کشائی کی۔

کچھ ریاستوں کے گورنروں کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کو نظرانداز کر دیں گے۔ جبکہ توانائی کی صنعت کے مختلف شعبوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔

اسی بارے میں