یونان میں تارکینِ وطن کی آمد جاری، ہزاروں ہنگری میں پھنس گئے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

یورپ میں مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے راستے تارکینِ وطن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور چار ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں کو بدھ کو یونان پہنچایا جا رہا ہے۔

ادھر ہنگری میں کیٹلی کے ریلوے سٹیشن پر پھنسے سینکڑوں تارکینِ وطن نے بدھ کو دوسرے دن بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

4200 پناہ گزین منگل کی شب دو بحری جہازوں کے ذریعے لیزبوس کے جزیرے سے روانہ ہوئے اور ان کی منزل یونان بندرگاہ پیریئس ہے۔

یورپ کے سرحدی ادارے فرنٹیکس کا کہنا ہے کہ صرف گذشتہ ہفتے کے دوران یونان پہنچنے والے تارکینِ وطن کی تعداد 23 ہزار رہی ہے جو کہ اس سے پچھلے ہفتے سے 50 فیصد زیادہ ہے۔

رواں برس اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ تارکینِ وطن نے یونان کا رخ کیا ہے۔

یونانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس تارکینِ وطن کی اتنی بڑی تعداد کی دیکھ بھال کرنے کے لیے وسائل موجود نہیں، تاہم غیر سرکاری امدادی تنظیموں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر مزید اقدامات ضروری ہیں۔

تارکینِ وطن کے معاملے پر یونان کی نگران کابینہ کا ہنگامی اجلاس بدھ کو منعقد ہو رہا ہے۔

منگل کو یونانی صدر پروکوپسس پاؤلوپولس نے اپنے فرانسیسی ہم منصب فرانسوا اولاند سے بھی بات چیت کی تھی اور ان سے یونان کو درپیش اس صورت حال کو یورپ میں اعلیٰ سطح پر اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہنگری کو پولیس نے سٹیشن کو دوسرے مسافروں کے لیے کھولا لیکن پناہ گزینوں کو داخل ہونے سے باز رکھا

یونان کے مقامی اخبار کاتھیمیرینی کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کی ابتدائی منزل سمجھے جانے والے جزیرے لیزبوس پر گذشتہ ہفتے کے دوران ساڑھے 17 ہزار افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے۔

لیزبوس سے روانہ ہونے والی ایک مسافر کشتی جس پر 1749 افراد سوار تھے، ایتھنز کے قریب پیریئس کے بندرگاہ پر منگل کو رات گئے پہنچی جبکہ ایک اور کشتی 2500 کے قریب تارکینِ وطن کو لے کر بدھ کو پہنچے گی۔

منگل کی شب پہنچنے والی کشتی کے ایک مسافر اور شام سے تعلق رکھنے والے استاد ایشام نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو ہماری مدد کرنی ہوگی۔ ہم بھی انسان ہیں۔‘

خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں جاری جنگوں اور ظلم و جبر سے تنگ آ کر ہزاروں تارکین وطن شمالی یورپ پہنچنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں تاکہ وہاں جا کر پناہ حاصل کریں جبکہ دوسری جانب یورپی یونین کے ممالک اس کا حل تلاش کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے کرس مورس کا کہنا ہے کہ اس بحران نے پناہ گزینوں کے متعلق یورپی یونین کے نظام میں موجود کمی کو اجاگر کیا ہے۔

تارکینِ وطن سے متعلق یورپی یونین کے اصول ’ڈبلن ضابطہ‘ کے مطابق پناہ گزینوں کو اس ملک میں پناہ حاصل کرنی چاہیے جہاں وہ سب سے پہلے داخل ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تارکین وطن کی مشتعل بھیڑ نے ’جرمنی، جرمنی‘ کا نعرہ لگایا اور ہوا میں اپنے ٹکٹ لہرائے

تاہم اٹلی اور یونان جیسے ممالک نے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کی کثرت تعداد کے پیش نظر انھیں سنبھالنے سے قاصر ہیں، اس لیے تارکین وطن اب شمال کا رخ کر رہے ہیں۔

ایسے ہی دو ہزار تارکین وطن بدستور ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ کے ایک اہم ریلوے سٹیشن کی بندش کے بعد وہاں پر پھنسے ہوئے ہیں۔

مقامی پولیس نے انھیں یورپ کے کسی دوسرے ملک جانے سے روکنے کے لیے منگل کو کیٹلی کا سٹیشن بند کر دیا تھا۔

یہ افراد آسٹریا کے راستے جرمنی جانا چاہتے ہیں اور بدھ کو دوسرے دن احتجاج کے دوران مشتعل بھیڑ نے پھر ’جرمنی، جرمنی‘ کے نعرے لگائے اور ہوا میں اپنے ٹکٹ لہرائے۔

حکومت کے ترجمان زولٹان کوواسک نے ریلوے سٹیشن کے بند کیے جانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنگری یورپی یونین کے قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہنگیریئن ہلسینکی کمیٹی نے کیلٹی سٹیشن کے حالات کو ’انتہائی کشیدہ اور غیریقینی‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپی ممالک میں غیر قانونی تارکین وطن کا بحران جاری ہے اور اس کے حل کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں

ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر زیجارٹو نے منگل کو نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ اب ہنگری تمام پناہ گزینوں کا اندراج کرے گا اور اُن کے خیال میں ایسے افراد جنھوں نے معاشی وجوہات کی بنا پر ہجرت کی ہے انھیں اس ملک واپس بھیج دے گا جہاں سے وہ ان کے ملک میں داخل ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ صرف جولائی میں یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

جرمنی کا اندازہ ہے کہ رواں سال اس کے یہاں آٹھ لاکھ پناہ گزین پہنچیں گے جو گذشتہ سال سے چار گنا زیادہ ہیں۔

جرمنی کے وزیر محنت آندریا ناہلیز نے کہا کہ آئندہ سال 24 ہزار سے 46 ہزار تک پناہ گزین سماجی فوائد حاصل کرنے کے اہل ہوں گے جس کا مطلب حکومت کو اربوں یورو کا بار اٹھانا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جرمنی نے شامی پناہ گزینوں کو درخواست دینے کی اجازت کا اعلان کر رکھا ہے

جرمنی نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ دوسرے یورپی ممالک سے آنے والے شامی پناہ گزینوں کو ان کے ملک میں پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے کی اجازت ہوگی۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ڈبلن ضابطے اب بھی قائم ہیں اور ہم یورپی یونین کے رکن ممالک سے ان کی پاسداری کی امید کرتے ہیں۔‘

دریں اثنا یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس نے کہا ہے کہ ’جعلی شامی پاسپورٹ کا کاروبار‘ بطور خاص ترکی میں شروع ہو چکا ہے۔

فرنٹیکس کے سربراہ فیبری لیگری نے فرانسیسی ریڈیو کو بتایا: ’انھیں معلوم ہے کہ شامی باشندوں کو یورپی یونین میں پناہ حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔‘

خیال رہے کہ پناہ گزینوں کو درپیش خطرات اس وقت اجاگر ہوئے جب گذشتہ ہفتے بوڈاپیسٹ سے آ‎سٹریا جانے والی ایک لاری میں 71 افراد مردہ پائے گئے تھے۔

اسی بارے میں