لیبیا کے بحران کے سیاسی حل پر زور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مختلف دھڑوں کی لڑائی نے لیبیا کو تقسیم کر دیا ہے

تقریباً ایک سال سے اقوام متحدہ کی قیادت لیبیا میں ایک نئی اتحادی حکومت لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیبیا کے باشندوں پر مغربی ممالک کا زور ہے کہ وہ ایک معاہدے تک پہنچیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تارکینِ وطن کے بحران کی وجہ سے مثبت نتائج پر پہنچنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ، اٹلی اور فرانس جیسے اہم یورپی یونین کے ممالک نے قومی معاہدے کے لیے بنائی گئی حکومت سے پوری حمایت کا وعدہ کیا ہے۔

تنازعات کے اوقات میں طویل مذاکرات ایک نئی بات نہیں ہے لیکن جب منظر پر کوئی غالب سیاسی تحریک یا فوج نہیں نظر آتی تو پھر یہ کام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اور اس معاملے میں تو کئی کھلاڑی موجود ہیں۔

تمام فریقین ایک ایسے حل تک پہنچنا چاہتے ہیں جو یا تو مکمل طور پر ان کے حق میں ہو یا جو انھیں ان کے ہم منصبوں سے زیادہ برتری دیتا ہے۔

گذشتہ برس سے مشرق کی طرف سے تبروک کے شہر میں ایک منتخب پارلیمنٹ قائم تو ہے لیکن اس کے پاس اتنا ہی اختیار حاصل ہے جتنا مسلح گروہ دینے کی اجازت دیتے ہیں۔

مغربی لیبیا میں دارالحکومت طرابلس پر ملیشیا کے ایک چھوٹے اتحاد نے قبضہ کر لیا جس نے پھر سابق رکن پارلیمان کو پھر سے کھڑا کیا۔ اس پارلیمان نے اپنی کابینہ بھی بنا لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption تبروک میں قائم حکومت نے انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لیے بین الاقوامی امداد کا مطالبہ کیا ہے

جنوبی لیبیا ایک ایسی جگہ ہے جس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ہے ایک لیکن اس جگہ نے دنیا کی سب سے مہلک ترین قبائلی جھڑپیں بھی دیکھیں ہیں۔

جنوبی لیبیا تمام غیر قانونی چیزوں کا ایک راستہ بھی ہے۔اس وجہ سے گذشتہ دس ماہ سے اس ملک میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو طاقتور بننے کا موقع بھی ملا ہے۔

تبروک کی پارلیمنٹ کا مینڈیٹ اکتوبر میں ختم ہو رہا ہے اور اب خدشات ہیں کہ اگر ایک سیاسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے حکومت کی مدت ختم ہو جاتی ہے تو پھر دارالحکومت کے کنٹرول پر ایک نیا تصادم نہ شروع ہوسکتا ہے۔

لیکن یہ لیبیا ہے، اور کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک معاہدے پر پہنچنے پر زیادہ زور ڈالا گیا تو حریف ملیشیاؤں کے درمیان سے بھی بڑا تصادم کھڑا ہو سکتا ہے۔

مثالی طور پر ملک کو متحدہ رکھنے والے ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو سیاسی اور نظریاتی طور پر غیر جانبدار ہے اور اپنی حکومت کے ساتھ ایک وفادار قومی فورس بنانے میں اپنی جان تک لگا سکتا ہے۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سپین جیسے مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ لیبیا ایک نئی اتحادی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے ان کی مدد مانگے۔

لیکن جب غیر ملکی سفارتکاروں اور لیبیا کے سیاستدانوں سے پوچھا جاتا ہے کہ اس ’نئی‘ حکومت کے امیدوار کہاں سے چنے جائیں گے تو کمرے میں ایسی خاموشی چاہ جاتی ہے کہ ایک سوئی کے گرنے کی آواز تک آتی ہے۔

لیبیا میں وقت کا بہت بڑا مسئلہ ہے، اور اس مرحلے پر یہ وقت کسی کے ساتھ نہیں ہے۔

اسی بارے میں